اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔
En
خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسعت علم، عظمت اقتدار اور کمال حکمت کو بیان کرتا ہے کہ اس نے انسان کو کمزوری سے پیدا کیا اور وہ اس کی تخلیق کے ابتدائی مراحل ہیں یعنی اسے نطفہ سے جما ہوا خون بنایا، پھر گوشت کا لوتھڑا بنایا اور پھر رحم کے اندر زندہ انسان بنایا، پھر اس کو ماں کے پیٹ سے پیدا کیا۔ جب وہ سن طفولیت میں ہوتا ہے تو انتہائی ضعیف اور اس میں قوت و قدرت معدوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جوانی کو پہنچ جاتا ہے، اس کی قوت اور اس کے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس مرحلے سے کمزوری اور بڑھاپے کی طرف لوٹتا ہے۔
﴿یَخْلُ٘قُمَایَشَآءُ ﴾ وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بندہ اپنے ضعف کا مشاہدہ کرے۔ اس کی قوت دو قسم کی کمزوریوں سے گھری ہوئی ہے اور فی نفسہ اس کے پاس نقص کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے طاقت عطا نہ کرے تو اسے طاقت حاصل ہو سکتی ہے نہ قدرت اور اگر اس کی قوت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے تو وہ بغاوت اور سرکشی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت دائمی ہے وہ اپنی قدرت سے جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے، اپنی قدرت سے تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، اسے تھکن لاحق ہوتی ہے نہ کمزوری اور نہ کسی طرح اس میں کمی واقع ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن سعةِ علمِهِ وعظيم اقتدارِهِ وكمال حكمتِهِ؛ أنَّه ابتدأ خَلْقَ الآدميين من ضَعْفٍ، وهو الأطوارُ الأولى من خلقِهِ من نطفةٍ إلى علقةٍ إلى مضغةٍ إلى أنْ صار حيواناً في الأرحام إلى أن وُلِدَ وهو في سنِّ الطُّفولية، وهو إذْ ذاك في غاية الضعفِ وعدم القوَّة والقدرة، ثمَّ ما زال الله يزيدُ في قوَّته شيئاً فشيئاً، حتى بلغ سنَّ الشبابَ، واستوتْ قوَّتُه، وكملتْ قواه الظاهرةُ والباطنةُ، ثم انتقل من هذا الطورِ ورجع إلى الضعف والشيبةِ والهرم. {يَخْلُقُ ما يشاءُ}: بحسب حكمتِهِ، ومن حكمتِهِ أن يُريَ العبدَ ضعفَه، وأنَّ قوَّتَه محفوفةٌ بضعفين، وأنَّه ليس له من نفسه إلا النقصُ، ولولا تقويةُ الله له؛ لما وصل إلى قوَّة وقدرة، ولو استمرَّتْ قوتُه في الزيادة؛ لطغى وبغى وعتا، وليعلم العبادُ كمالَ قدرةِ الله، التي لا تزال مستمرَّةً؛ يخلق بها الأشياء، ويدبِّر بها الأمورَ، ولا يلحقُها إعياءٌ ولا ضعفٌ ولا نقصٌ بوجه من الوجوه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔