تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد فرمایا ہے کہ جو اللہ انسان کو عدم سے نکال کر وجود میں لا سکتا ہے، پھر ضعف کی حالت سے بڑھا کر قوت اور جوانی تک پہنچاتا ہے، پھر قوت و جوانی سے ضعف اور بڑھاپے کی طرف لا کر موت تک پہنچا دیتا ہے، اس کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں، خصوصاً جب وہ علیم بھی ہے، اسے کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کے ہر ذرّے کا علم ہے کہ کہاں ہے اور قدیر بھی ہے کہ اس کا وجود و عدم دونوں اس کی قدرت کا نتیجہ ہیں۔ وہ جب چاہے مردہ اجزا کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
➌ { يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} یعنی ضعف سے قوت کی طرف اور قوت سے ضعف اور بڑھاپے کی طرف انسان کا یہ سفر اندھے اور بے شعور مادے کے خود بخود ہونے والے تغیر ات نہیں، بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، کسی کو جنین ہی کی حالت میں ختم کر دیتا ہے، کسی کو پیدا ہوتے ہی، کسی کو بچپن میں بلا لیتا ہے، کسی کو جوانی تک پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے بڑھاپے تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کی مشیّت، کمال علم اور کمال قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔
➍ ابن عاشور فرماتے ہیں: ”لفظ {” ضُعْفٍ “} آیت میں ضاد کے ضمّہ کے ساتھ ہے اور یہ زیادہ فصیح اور لغتِ قریش ہے اور اس کے ضاد پر فتحہ بھی جائز ہے اور یہ لغتِ تمیم ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے {”الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ“} (یعنی ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے {” مِنْ ضُعْفٍ “} (یعنی ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھایا۔“ [ترمذي، القراءات، باب ومن سورۃ الروم: ۲۹۳۶، وقال الألباني حسن۔ أبو داوٗد، الحروف و القراءات، باب: ۳۹۷۸] جمہور نے تینوں جگہ {” ضُعْفٍ “} کا لفظ ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم اور حمزہ نے اسے ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یقینا ان کے پاس اس کا ثبوت ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنھما کی روایت کے خلاف ہے۔ اس قراء ت اور ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا، کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی لغت ہے اور جو دوسرے قبیلے کی لغت میں پڑھے اس کے لیے فتحہ کے ساتھ پڑھنے کی رخصت ہے اور جس کی کوئی خاص لغت نہ ہو اسے دونوں طرح پڑھنے کا اختیار ہے۔“ (التحریر و التنویر) یاد رہے کہ اگرچہ عاصم کی قراء ت ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے مگر ان کے ایک راوی حفص نے (جن کی روایت ہمارے ہاں رائج ہے) ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث کی وجہ سے اس کے ضاد کے ضمہ کو ترجیح دی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے، پھر بڈھا ہوتاہے، پھر بڈھا پھوس ہو جاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے کہ ہمت پست ہے، دیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، اچکنا، پکڑنا غرض ہرطاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہو جاتی ہیں۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہو جاتے ہیں۔
یہ ہے قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک، وہ عالم و قادر، نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔
عطیہ عوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”میں نے اس آیت کو «ضُعْفًا» تک ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تلاوت کیا اور فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آیت کو اتنا ہی پڑھا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3978،قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن سعةِ علمِهِ وعظيم اقتدارِهِ وكمال حكمتِهِ؛ أنَّه ابتدأ خَلْقَ الآدميين من ضَعْفٍ، وهو الأطوارُ الأولى من خلقِهِ من نطفةٍ إلى علقةٍ إلى مضغةٍ إلى أنْ صار حيواناً في الأرحام إلى أن وُلِدَ وهو في سنِّ الطُّفولية، وهو إذْ ذاك في غاية الضعفِ وعدم القوَّة والقدرة، ثمَّ ما زال الله يزيدُ في قوَّته شيئاً فشيئاً، حتى بلغ سنَّ الشبابَ، واستوتْ قوَّتُه، وكملتْ قواه الظاهرةُ والباطنةُ، ثم انتقل من هذا الطورِ ورجع إلى الضعف والشيبةِ والهرم. {يَخْلُقُ ما يشاءُ}: بحسب حكمتِهِ، ومن حكمتِهِ أن يُريَ العبدَ ضعفَه، وأنَّ قوَّتَه محفوفةٌ بضعفين، وأنَّه ليس له من نفسه إلا النقصُ، ولولا تقويةُ الله له؛ لما وصل إلى قوَّة وقدرة، ولو استمرَّتْ قوتُه في الزيادة؛ لطغى وبغى وعتا، وليعلم العبادُ كمالَ قدرةِ الله، التي لا تزال مستمرَّةً؛ يخلق بها الأشياء، ويدبِّر بها الأمورَ، ولا يلحقُها إعياءٌ ولا ضعفٌ ولا نقصٌ بوجه من الوجوه.