تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 53

وَ مَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِ الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿٪۵۳﴾
اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے۔ تو نہیں سناتا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ،پھر وہ فرماں بردار ہیں۔ En
اور نہ اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں
En
اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَاۤ اَنْتَ بِهٰؔدِ الْ٘عُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں کیونکہ اندھے اپنے اندھے پن کے باعث دیکھ سکتے ہیں نہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی ہے ﴿اِنْ تُ٘سْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ آپ صرف انھیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ یعنی ہدایت کا سنوانا صرف انھی لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے، ہمارے احکام کی تعمیل کرتے اور ہمارے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کا قوی داعیہ موجود ہے اور وہ ہے ہر آیت پر ایمان لانے اور مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے مستعد رہنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما أنت بهادِ العُمْيِ عن ضلالَتِهِم}: لأنَّهم لا يقبلون الإبصارَ بسبب عَماهم؛ فليس فيهم قابليَّةٌ له. {إن تُسْمِعُ إلاَّ مَن يؤمنُ بآياتنا فهم مسلمونَ}: فهؤلاء الذين ينفعُ فيهم إسماعُ الهدى، المؤمنون بآياتنا بقلوبهم، المنقادون لأوامرنا، المسلمون لنا؛ لأنَّ معهم الداعي القويَّ لقَبول النصائح والمواعظ، وهو استعدادُهم للإيمان بكلِّ آيةٍ من آيات الله، واستعدادُهم لتنفيذ ما يقدِرون عليه من أوامرِ الله ونواهيه.