تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 67

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے ہیں، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں؟ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
En
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے امن والے حرم کا احسان جتلایا ہے کہ اہل حرم امن اور کشادہ رزق سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے اور وہ خوف زدہ رہتے ہیں، تو یہ اس ہستی کی عبادت کیوں نہیں کرتے جس نے بھوک اور قحط میں کھانا کھلایا اور خوف اور بدامنی میں امن مہیا کیا؟ ﴿اَفَبِالْبَاطِلِ۠ یُؤْمِنُوْنَ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس سے مراد ان کا شرک اور دیگر باطل اقوال و افعال ہیں۔ ﴿وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْ٘فُرُوْنَ اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کی عقل و دانش کہاں چلی گئی کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر، باطل کو حق پر اور بدبختی کو خوش بختی پر ترجیح دے رہے ہیں؟ وہ مخلوق میں سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم امتنَّ عليهم بحرمه الآمن، وأنَّهم أهلُه في أمنٍ وسعةٍ ورزقٍ، والناس من حولهم يُتَخَطَّفونَ ويخافون، أفلا يعبدونَ الذي أطعمهم من جوعٍ وآمَنَهم من خوفٍ؟! {أفبالباطل يؤمنونَ}: وهو ما هم عليه من الشركِ والأقوالِ والأفعالِ الباطلةِ، {وبنعمةِ الله}: هم {يكفرونَ}؟ فأينَ ذهبتْ عقولهم، وانسلختْ أحلامُهم حيث آثروا الضلال على الهدى، والباطلَ على الحقِّ والشَّقاء على السعادة، وحيث كانوا أظلمَ الخلق؟!