ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 67

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے ہیں، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں؟ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
En
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم [99] کو پرامن بنا دیا ہے جبکہ ان کے ارد گرد کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔
[99] قریش مکہ کو حرم مکہ کی وجہ سے حاصل ہونے والے فوائد:۔
مکہ اور اس کے مضافات کو اللہ تعالیٰ نے ہی حرم بنایا کہ عرصہ اڑھائی ہزار سال سے یہ لوگ اس پرامن حرم کے فوائد سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور عربی قبائل کی لوٹ مار سے محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر اسی وجہ سے انھیں عرب بھر میں سیاسی اقتدار حاصل ہے۔ انھیں دور دراز مقامات سے رزق بھی پہنچ جاتا ہے۔ اور بہت سے تجارتی فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے کسی بت، لات، منات، ہبل یا کسی دوسرے بت میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اس خطہ ارضی کو پرامن حرم بنا سکتا۔ اللہ کی اس نعمت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کے فرمانبردار بن کر رہتے۔ مگر یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا دوسرے معبودوں کو اللہ کا شریک بنا رہے تھے۔