تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 55

یَوۡمَ یَغۡشٰہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ وَ یَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۵﴾
جس دن عذاب انھیں ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا اور (اللہ) فرمائے گا چکھو جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ En
جس دن عذاب اُن کو اُن کے اُوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) اُن کا مزہ چکھو
En
اس دن ان کے اوپر تلے سے عذاب ڈھانﭗ رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزه چکھو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَیَقُوْلُ ذُوْقُ٘وْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ جس دن ان کو عذاب ڈھانپ لے گا، ان کے اوپر اور ان کے قدموں کے نیچے سے اور اللہ کہے گا، چکھو مزا اس کا جو تم کرتے تھے۔ کیونکہ تمھارے اعمال تمھارے لیے عذاب بن گئے جس طرح تمھارا کفر اور تمھارے گناہ بے شمار تھے اسی طرح تمھارے لیے عذاب بھی لامحدود ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يومَ يغشاهُمُ العذابُ من فوقِهم ومن تحتِ أرجلهم ويقولُ ذوقوا ما كنتُم تعملون}: فإنَّ أعمالَكم انقلبتْ عليكم عذاباً، وشَمَلَكم العذابُ كما شَمَلَكم الكفرُ والذنوبُ.