تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھرائو والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔
En
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَكُلًّا ﴾”پس سب کو۔“ یعنی انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان تمام قوموں کو ﴿ اَخَذْنَابِذَنْۢبِهٖ﴾ ہم نے ان کے گناہ کی مقدار اور اس گناہ سے مناسبت والی سزاکے ذریعے سے پکڑ لیا۔ ﴿ فَمِنْهُمْمَّنْاَرْسَلْنَاعَلَیْهِحَاصِبًا﴾”پس ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا۔“ یعنی ہم نے ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس میں ان کو پتھر مار کر ہلاک کیا جیسے قوم عاد، اللہ تعالیٰ نے اس پر تباہ کن آندھی بھیجی اور ﴿سَخَّرَهَاعَلَیْهِمْسَبْعَلَیَالٍوَّثَمٰنِیَةَاَیَّامٍ١ۙحُسُوْمًا١ۙفَتَرَىالْقَوْمَفِیْهَاصَرْعٰى١ۙكَاَنَّهُمْاَعْجَازُنَخْلٍخَاوِیَةٍ﴾ (الحاقۃ:69؍7) اس ہوا کو سات رات اور آٹھ دن تک لگاتار چلائے رکھا تو تو ان نافرمان لوگوں کو اس میں اس طرح مرے پڑے ہوئے دیکھتا ہے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔“
﴿ وَمِنْهُمْمَّنْاَخَذَتْهُالصَّیْحَةُ﴾”اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا“ جیسے صالح علیہ السلام کی قوم ﴿ وَمِنْهُمْمَّنْخَسَفْنَابِهِالْاَرْضَ﴾”اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔“ جیسے قارون ﴿ وَمِنْهُمْمَّنْاَغْ٘رَقْنَا﴾”اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم غرق کردیا۔“ جیسے فرعون، ہامان اور ان کے لشکر ﴿ وَمَاكَانَاللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب اور اس کے لائق نہیں کہ وہ اپنے کمال عدل اور مخلوق سے کامل بے نیازی کی بنا پر بندوں پر ظلم کرتا ﴿وَلٰكِنْكَانُوْۤااَنْفُسَهُمْیَظْلِمُوْنَ ﴾”لیکن وہ اپنے ہی نفوس پر ظلم کرتے تھے۔“ انھوں نے اپنے نفوس کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا۔ کیونکہ نفوس اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا كيے گئے ہیں۔ ان مشرکین نے ان کو ایسے کاموں میں استعمال کیا جن کے لیے وہ پیدا نہیں كيے گئے۔ انھوں نے ان کو شہوات میں مشغول کر کے سخت نقصان پہنچایا جبکہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا رہے کہ وہ ان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكلاًّ}: من هؤلاء الأمم المكذِّبة {أخذنا بِذَنبِهِ}: على قدره وبعقوبةٍ مناسبة له، {فمنهم مَنْ أرْسَلْنا عليه حاصباً}؛ أي: عذاباً يَحْصِبُهم كقوم عادٍ حين أرسل الله {عليهم الريح العقيم} و {سخَّرها عليهم سبعَ ليال وثمانيةَ أيام حسوماً فترى القوم فيها صَرْعى كأنَّهم أعجازُ نخل خاوية}، {ومنهم من أخَذَتْه الصيحةُ}: كقوم صالح، {ومنهم مَنْ خَسَفْنا به الأرض}: كقارون، {ومنهم من أغْرَقْنا}: كفرعون وهامان وجنودهما. {وما كان اللهُ}؛ أي: ما ينبغي ولا يليقُ به تعالى أن يظلمهم لكمال عدله وغناه التام عن جميع الخلق، {ولكِن كَانُوا أنفُسَهُم يَظلِمُونَ}: منعوها حقَّها التي هي بصددِهِ؛ فإنَّها مخلوقةٌ لعبادة الله وحده؛ فهؤلاء وَضَعوها في غير موضِعِها، وشَغَلوها بالشهواتِ والمعاصي، فضرُّوها غاية الضرر من حيث ظنُّوا أنهم ينفعونها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔