تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھرائو والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔
En
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے
En
(آیت 40) ➊ { فَكُلًّااَخَذْنَابِذَنْۢبِهٖ …:} تو ہم نے ان میں ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔{”فَمِنْهُمْمَّنْاَرْسَلْنَاعَلَيْهِحَاصِبًا“”حَاصِبًا“} سخت آندھی جو سنگریزے اور پتھر اڑا کر لائے، یعنی پھر ان میں کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ والی آندھی بھیجی۔ اس سے مراد قومِ عاد ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے نہایت ٹھنڈی، سخت تیز اور کنکر و پتھر اڑانے والی آندھی بھیجی جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، جس کے ساتھ تمام کافر اس طرح گرے پڑے تھے جیسے گرے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہوں۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۵ تا ۸) اور سورۂ قمر (۱۹، ۲۰) بعض مفسرین نے ان لوگوں سے مراد قوم لوط لی ہے، کیونکہ ان کے متعلق دوسری جگہ فرمایا ہے: «{ اِنَّاۤاَرْسَلْنَاعَلَيْهِمْحَاصِبًااِلَّاۤاٰلَلُوْطٍ }»[القمر: ۳۴]”بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی سوائے لوط کے گھر والوں کے۔“ اور غرق ہونے والوں سے مراد نوح علیہ السلام کی قوم اور چیخ والوں سے مراد شعیب علیہ السلام کی قوم لی ہے، مگر ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے کی آیات میں نوح، لوط اور شعیب علیھم السلام کی قوم پر آنے والے عذابوں کا ذکر گزر چکا ہے، یہاں سے عاد اور اس کے بعد کے لوگوں پر آنے والے عذابوں کا ذکر ہے، اس لیے یہاں پتھراؤ والی آندھی سے ہلاک ہونے والوں سے مراد قوم عاد ہی ہے۔ ➋ { وَمِنْهُمْمَّنْاَخَذَتْهُالصَّيْحَةُ:} اس سے مراد قومِ ثمود ہے، اگرچہ شعیب علیہ السلام کی قوم بھی {”الصَّيْحَةُ“} (چیخ) سے ہلاک ہوئی، مگر اس کی گرفت کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ➌ { وَمِنْهُمْمَّنْخَسَفْنَابِهِالْاَرْضَ:} اس سے مراد قارون ہے، جیسا کہ سورۂ قصص کی آیت (۸۱) میں گزرا۔ ➍ {وَمِنْهُمْمَّنْاَغْرَقْنَا:} اس سے مراد فرعون، ہامان اور ان کی قوم ہے۔ ویسے الفاظ کے عموم کی وجہ سے اگر {”حَاصِبًا“} والوں سے مراد قومِ عاد اور قومِ لوط دونوں اور {”الصَّيْحَةُ“} والوں سے مراد قومِ ثمود اور قومِ شعیب دونوں اور غرق ہونے والوں سے مراد آل فرعون اور قوم نوح دونوں لیے جائیں تو کوئی مانع نہیں۔ ➎ {وَمَاكَانَاللّٰهُلِيَظْلِمَهُمْ …:”كَانَ“} استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کبھی بھی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اور ایسے افعال کا ارتکاب کرتے تھے جن کا نتیجہ ان پر عذاب اور ان کی ہلاکت اور بربادی تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔