اور قارون اور فرعون اور ہامان کو، اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آیا، تو وہ زمین میں بڑے بن بیٹھے اور وہ بچ نکلنے والے نہ تھے۔
En
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لےکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
قارون، فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو واضح دلائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انھوں نے ان دلائل کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور انھیں ذلیل کیا اور حق کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا مگر جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس سے بچنے پر قادر نہ تھے۔﴿وَمَاكَانُوْاسٰؔبِقِیْنَ﴾ وہ اللہ سے بھاگ کر کہیں جا نہ سکے اور انھیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا پڑا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكذلك قارونُ وفرعونُ وهامانُ، حين بعث الله إليهم موسى بن عمران بالآيات البينات والبراهين الساطعات، فلم ينقادوا، واستكبروا في الأرض على عباد الله فأذلُّوهم، وعلى الحقِّ فردوه فلم يقدروا على النجاء حين نزلت بهم العقوبة. {وما كانوا سابقينَ}: اللهَ ولا فائتينَ، بل سلَّموا واسْتَسْلموا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔