ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 4

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾
یا ان لوگوں نے جو برے کام کرتے ہیں، یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ En
کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ جو خیال یہ کرتے ہیں برا ہے
En
کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وه ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے، یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا …:} اگرچہ { الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ } (جو لوگ برے کام کرتے ہیں) کے الفاظ عام ہیں، جن میں مومن و کافر دونوں آ جاتے ہیں، مگر یہاں مراد کافر ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: پہلی دو آیتیں مسلمانوں کے متعلق تھیں جو کافروں کی ایذاؤں میں گرفتار تھے اور یہ آیت کافروں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے۔ (موضح) یعنی ایمان والوں کی آزمائشوں اور امتحانات کو دیکھ کر کیا کافروں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے؟ اگر انھوں نے عارضی مہلت سے یہ رائے قائم کر لی ہے کہ ہم ہمیشہ مزے میں رہیں گے، کبھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ نہیں آئیں گے، تو انھوں نے بہت بری رائے قائم کر لی ہے، کیونکہ مومنوں کی آزمائش تو ایک وقت تک ہے اور ان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے، جب کہ کفار کے لیے شدید عذاب تیار ہے جو مومنوں کی آزمائش کی طرح چند روزہ نہیں بلکہ دائمی ہے۔