اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا ان میں شرک کی بیماری کے ساتھ ساتھ، مردوں کے ساتھ بدکاری، راہ زنی اور مجالس میں فواحش و منکرات کے ارتکاب جیسے برے کام بھی جمع تھے۔ لوط علیہ السلام نے ان کو ان فواحش سے روکا اور ان پر ان فواحش کی قباحتیں واضح کیں اور ان کی پاداش میں نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں آگاہ فرمایا مگر انھوں نے اس بات کی طرف کوئی توجہ دی نہ نصیحت پکڑی۔ ﴿ فَمَاكَانَجَوَابَقَوْمِهٖۤاِلَّاۤاَنْقَالُواائْتِنَابِعَذَابِاللّٰهِاِنْكُنْتَمِنَالصّٰؔدِقِیْنَ ﴾”پس ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچوں میں سے ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأرسل الله لوطاً إلى قومه، وكانوا مع شركهم قد جمعوا بين فعل الفاحشة في الذُّكور وتقطيع السبيل وفُشُوِّ المُنْكرات في مجالسهم، فنصحهم لوطٌ عن هذه الأمور، وبيَّن لهم قبائحها في نفسها وما تؤول إليه من العقوبة البليغة، فلم يَرْعَووا ولم يَذَّكَّروا. {فما كان جوابَ قومِهِ إلاَّ أن قالوا ائْتِنا بعذابِ الله إن كنتَ من الصادقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔