ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 28

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اور لوط کو (بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا بے شک تم یقینا اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔ En
اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا
En
اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) {وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ …:} ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ وہ ان پر ایمان لائے اور دونوں نے اکٹھے ہجرت کی۔ لوط علیہ السلام کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (رکوع ۱۰)، حجر (رکوع ۴، ۵)، انبیاء (رکوع ۵)، شعراء (رکوع ۹)، نمل (رکوع ۴)، صافات (رکوع ۴) اور قمر (رکوع ۲) اور آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰) اور نمل (۵۴، ۵۵)۔