اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا
En
(آیت 28) {وَلُوْطًااِذْقَالَلِقَوْمِهٖۤ …:} ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ وہ ان پر ایمان لائے اور دونوں نے اکٹھے ہجرت کی۔ لوط علیہ السلام کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (رکوع ۱۰)، حجر (رکوع ۴، ۵)، انبیاء (رکوع ۵)، شعراء (رکوع ۹)، نمل (رکوع ۴)، صافات (رکوع ۴) اور قمر (رکوع ۲) اور آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰) اور نمل (۵۴، ۵۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28-1اس بدکاری سے مراد وہی لواطت ہے جس کا ارتکاب قوم لوط ؑ نے سب سے پہلے کیا جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اور لوط (کا واقعہ یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: تم ایسی بد کاری کے مرتکب ہو رہے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سب سے خراب عادت ٭٭
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ { راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ } ۱؎[مسند احمد:241/6:ضعیف] سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا ان میں شرک کی بیماری کے ساتھ ساتھ، مردوں کے ساتھ بدکاری، راہ زنی اور مجالس میں فواحش و منکرات کے ارتکاب جیسے برے کام بھی جمع تھے۔ لوط علیہ السلام نے ان کو ان فواحش سے روکا اور ان پر ان فواحش کی قباحتیں واضح کیں اور ان کی پاداش میں نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں آگاہ فرمایا مگر انھوں نے اس بات کی طرف کوئی توجہ دی نہ نصیحت پکڑی۔ ﴿ فَمَاكَانَجَوَابَقَوْمِهٖۤاِلَّاۤاَنْقَالُواائْتِنَابِعَذَابِاللّٰهِاِنْكُنْتَمِنَالصّٰؔدِقِیْنَ ﴾”پس ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچوں میں سے ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأرسل الله لوطاً إلى قومه، وكانوا مع شركهم قد جمعوا بين فعل الفاحشة في الذُّكور وتقطيع السبيل وفُشُوِّ المُنْكرات في مجالسهم، فنصحهم لوطٌ عن هذه الأمور، وبيَّن لهم قبائحها في نفسها وما تؤول إليه من العقوبة البليغة، فلم يَرْعَووا ولم يَذَّكَّروا. {فما كان جوابَ قومِهِ إلاَّ أن قالوا ائْتِنا بعذابِ الله إن كنتَ من الصادقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔