ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 15

فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
پھر ہم نے اسے بچا لیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ En
پھر ہم نے نوحؑ کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
En
پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ پھر ہم نے نوح کو اور کشی والوں کو (اس طوفان سے) بچا لیا اور کشتی کو اہل عالم [25] کے لئے ایک نشانی بنا دیا۔
[25] اصحاب السفینہ اور کشتی نوح :۔
لفظ ﴿وَجَعَلْنٰهَا میں ﴿ها﴾ کی ضمیر کشتی کی طرف بھی راجع ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کشتی اس طوفان کے بعد طویل مدت جودی پہاڑ پر ہی ٹکی رہی۔ لوگ اسے دیکھتے رہے اور اس سے طوفان نوح اور مجرم قوم کے انجام کی یاد تازہ ہوتی رہی۔ اور ﴿ها﴾ کی ضمیر اس پورے قصہ میں قوم نوح کی طرف بھی راجع ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس قوم کی سرکشی پھر ان کی سرکشی کے اس دردناک انجام کو ہم نے بعد میں آنے والے سب لوگوں کے کے لیے ایک مثال بنا دیا کہ لوگ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں۔