تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 56

اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ En
(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے
En
آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ… اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ … کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کر دیتا ہے اور کون ہدایت عطا كيے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔
رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَاِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الشوریٰ:42؍52) اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کررہے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کا اثبات تو یہ ہدایت بیان و ارشاد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صراط مستقیم کو واضح کرتے ہیں لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں اور لوگوں کو اس پر گامزن کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ آیا آپ دلوں میں ایمان پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فعل کی توفیق عطا کر سکتے ہیں … تو حاشا و کلا ایسا ہرگز نہیں … ایسا ہرگز نہیں۔ لہذا اگر آپ اس پر قادر ہوتے تو آپ اس شخص کو ضرور ہدایت سے سرفراز فرماتے جس نے آپ پر احسان فرمایا تھا، جس نے آپ کو اپنی قوم سے بچایا اور آپ کی مدد فرمائی … یعنی آپ کے چچا ابو طالب … مگر آپ نے ابو طالب کو دین کی دعوت دے کر اور کامل خیر خواہی کے ساتھ ان پر احسان کیا اور یہ اس احسان سے بہت زیادہ ہے جو آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّك يا محمدُ ـ وغيرُك من باب أولى ـ لا تقدِرُ على هداية أحدٍ، ولو كان من أحبِّ الناس إليك؛ فإنَّ هذا أمرٌ غيرُ مقدور للخلق؛ هداية التوفيق وخلق الإيمان في القلب، وإنَّما ذلك بيد الله تعالى؛ يهدي مَنْ يشاء وهو أعلم بِمَنْ يَصْلُحُ للهداية فيهديه ممَّن لا يَصْلُحُ لها فيبقيه على ضلاله. وأمَّا إثباتُ الهداية للرسول في قوله تعالى: {وإنَّك لَتَهدي إلى صراطٍ مستقيم}: فتلك هدايةُ البيان والإرشاد؛ فالرسولُ يبيِّن الصراط المستقيم، ويرغِّب فيه، ويبذلُ جهدَه في سلوك الخلقِ له، وأما كونُهُ يخلُقُ في قلوبهم الإيمان، ويوفِّقُهم بالفعل؛ فحاشا وكلاَّ، ولهذا لو كان قادراً عليها؛ لهدى من وصل إليه إحسانُه ونصرُه ومَنْعُهُ من قومه؛ عمَّه أبا طالب، ولكنَّه أوصل إليه من الإحسان بالدعوة له للدين والنصح التامِّ ما هو أعظم مما فعله معه عمُّه، ولكنَّ الهداية بيد الله.