تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ سعید بن مسیب کے والد بیان کرتے ہیں: [لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ بْنَ أَبِيْ أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ، فَقَالَ أَيْ عَمِّ! قُلْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللّٰهِ، فَقَالَ أَبُوْ جَهْلٍ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أَبِيْ أُمَيَّةَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَلَمْ يَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيْدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتّٰي قَالَ أَبُوْ طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلٰی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبٰی أَنْ يَّقُوْلَ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، قَالَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللّٰهِ! لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ» وَ أَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْ أَبِيْ طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ}» ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إنک لا تھدی من أحببت…» ۴۷۷۲] ”جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا! تو ”لاالٰہ الا اللہ“ کہہ دے، یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے سے میں تیرے لیے اللہ کے پاس جھگڑا کروں گا۔“ تو ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ”کیا تو عبدالمطلب کی ملت سے بے رغبتی کرتا ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے یہی بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی وہی بات دہراتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے ان سے آخری بات جو کی وہ یہ تھی: ”عبد المطلب کی ملت پر (مر رہا ہوں)۔“ اور اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ہر صورت تیرے لیے استغفار کروں گا، جب تک مجھے منع نہ کر دیا گیا۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى }» [التوبۃ: ۱۱۳] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں۔“ اور اللہ عزوجل نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ }» ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے کہا: ”تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ دے، میں قیامت کے دن تیرے لیے اس کی شہادت دوں گا۔“ اس نے کہا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے لوگ مجھے عار دلائیں گے کہ اسے اس پر (موت کی) گھبراہٹ نے آمادہ کیا تو میں اس کے ساتھ تیری آنکھ ٹھنڈی کر دیتا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ }» [مسلم، الإیمان، باب الدلیل علٰی صحۃ إسلام …: 25/42]
➌ بعض لوگوں کو اصرار ہے کہ ابوطالب اسلام پر فوت ہوا، ان کا کہنا یہ ہے کہ عبدالمطلب ملتِ ابراہیم پر تھے اور {”عَلٰي مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ“} کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ”میں ملتِ ابراہیم پر فوت ہو رہا ہوں“ لہٰذا وہ مسلمان تھا۔ مگر حدیث کے الفاظ ”اور اس نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا“ کے بعد اس تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
➍ ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت تھی، اس نے ہر طرح سے آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا، مگر اس کی محبت طبعی یعنی قرابت اور نسب کی وجہ سے تھی، ایمانی محبت نہ تھی، اس لیے ہدایت نصیب نہ ہو سکی۔
➎ اگرچہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری مگر اصولی طور پر اس کا حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئے، مگر اس نے کفر پر مرنے کو ترجیح دی۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۱۱۳)۔
➏ یہاں فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ }» اور دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [الشورٰی: ۵۲]”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ پہلی آیت میں ہدایت سے مراد منزلِ مقصود پر پہنچا دینا ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، یہ کسی اور کا کام نہیں۔ دوسری آیت میں ہدایت سے مراد راستہ دکھانا ہے، یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر انجام دیتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ ترمذی کی روایت کے مطابق ابو طالب نے آپ کو یہ جواب دیا اگر قریش مجھے یہ عار نہ دلائیں کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے یہ کلمہ کہلوا دیا ہے تو بھتیجے! میں یہ کلمہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اب رہا ابو طالب کا اخروی انجام، جس نے مکی دور میں اپنے آخری دم تک آپ کی حمایت اور سرپرستی کی اور ہر مشکل سے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا، تو اس کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔ وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر سب کی ناراضگی مول لے لی تھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب شفاعۃ النبی لابی طالب]
2۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن شاید ان کو میری سفارش سے فائدہ پہنچے اور وہ ہلکی آگ میں رکھے جائیں جو ان کے ٹخنوں تک ہو اور ان کا بھیجا پکتا رہے“ [مسلم۔ حواله ايضاً]
3۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا وہ (آگ کی) دو جوتیاں پہنے ہوں گے جس سے ان کا بھیجا کھول رہا ہو گا۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) اور ہدایت کا دوسرا معنی یا دوسری صورت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ ان کی منزل مقصود تک رہنمائی کی جائے۔ ان معنوں میں آپ اور دیگر انبیاء بلکہ علمائے کرام بھی ہدایت کی راہ نہ بتلا سکتے ہیں اور پیغمبروں کی تو ذمہ داری ہی یہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ [52:42] یعنی آپ یقیناً لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
[77] یعنی اللہ صرف ان لوگوں کو ایمان لانے کی توفیق دیتا ہے جو خود بھی ہدایت کے طلبگار ہوں۔ ایسے لوگوں کو وہ خوب جانتا ہے اور ان کی ہدایت کے اسباب بھی انھیں مہیا فرما دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے ‘ کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟
بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے بارے میں اتری جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت طرف دار تھا اور ہر موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا تھا۔ اور دل سے محبت کرتا تھا لیکن یہ محبت بوجہ رشتہ داری کے طبعی تھی شرعاً نہ تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ایمان لانے کی رغبت دلائی لیکن تقدیر کا لکھا اور اللہ کا چاہا غالب آگیا یہ ہاتھوں میں سے پھسل گیا اور اپنے کفر پر اڑا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتقال پر اس کے پاس آئے۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہو میں اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں تیرا سفارشی بن جاؤنگا }۔ ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے ابوطالب کیا تو اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جائے گا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھاتے اور وہ دونوں اسے روکتے یہاں تک کہ آخر کلمہ اس کی زبان سے یہی نکلتا کہ میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور میں عبدالمطلب کے مذہب پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بہتر میں تیرے لیے رب سے استغفار کرتا رہونگا یہ اور بات ہے کہ میں روک دیا جاؤں اللہ مجھے منع فرما دے }۔ لیکن اسی وقت آیت اتری کہ «مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» ۱؎ [9-التوبة:113] یعنی ’ نبی کو اور مومن کو ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ ان کے نزدیکی قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں ‘ اور اسی ابوطالب کے بارے میں آیت «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] بھی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3884]
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کلمہ پڑھنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے بھتیجے میں تو اپنے بڑوں کی روش پر ہوں۔ اور اسی بات پر اس کی موت ہوئی کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہے۔
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے چاروں طرف ہیں اور تعداد میں مال میں ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ہمیں تکلیفیں پہنچائیں گی اور ہمیں برباد کر دیں گے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ’ یہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جہاں شروع دنیا سے اب تک امن وامان رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب اللہ کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے؟‘
یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان اسباب مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت بکثرت رہتی ہے۔ تمام چیزیں یہاں کھنچی چلی آتی ہیں اور ہم انہیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان میں اکثر بے علم ہیں۔ اسی لیے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں مروی ہے کہ یہ کہنے والاحارث بن عامر بن نوفل تھا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّك يا محمدُ ـ وغيرُك من باب أولى ـ لا تقدِرُ على هداية أحدٍ، ولو كان من أحبِّ الناس إليك؛ فإنَّ هذا أمرٌ غيرُ مقدور للخلق؛ هداية التوفيق وخلق الإيمان في القلب، وإنَّما ذلك بيد الله تعالى؛ يهدي مَنْ يشاء وهو أعلم بِمَنْ يَصْلُحُ للهداية فيهديه ممَّن لا يَصْلُحُ لها فيبقيه على ضلاله. وأمَّا إثباتُ الهداية للرسول في قوله تعالى: {وإنَّك لَتَهدي إلى صراطٍ مستقيم}: فتلك هدايةُ البيان والإرشاد؛ فالرسولُ يبيِّن الصراط المستقيم، ويرغِّب فيه، ويبذلُ جهدَه في سلوك الخلقِ له، وأما كونُهُ يخلُقُ في قلوبهم الإيمان، ويوفِّقُهم بالفعل؛ فحاشا وكلاَّ، ولهذا لو كان قادراً عليها؛ لهدى من وصل إليه إحسانُه ونصرُه ومَنْعُهُ من قومه؛ عمَّه أبا طالب، ولكنَّه أوصل إليه من الإحسان بالدعوة له للدين والنصح التامِّ ما هو أعظم مما فعله معه عمُّه، ولكنَّ الهداية بيد الله.