تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 57

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ نَّتَّبِعِ الۡہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا ؕ اَوَ لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّہُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجۡبٰۤی اِلَیۡہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اور انھوں نے کہا اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، ہماری طرف سے روزی کے لیے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
En
کہنے لگے اگر ہم آپ کے ساتھ ہوکر ہدایت کے تابع دار بن جائیں تو ہم تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں، کیا ہم نے انہیں امن وامان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟ جہاں تمام چیزوں کے پھل کِھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس بطور رزق کے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کچھ نہیں جانتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنْ نَّ٘تَّ٘بِـعِ الْهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں۔ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمْ نُمَؔكِّ٘نْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُ٘لِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں؟ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّ المكذِّبين من قريش وأهل مكة يقولون للرسول - صلى الله عليه وسلم -: {إن نَتَّبِعِ الهُدى معكَ نُتَخَطَّفْ من أرضِنا}: بالقتل والأسر ونهب الأموال؛ فإنَّ الناس قد عادَوْك وخالَفوك؛ فلو تابعناك؛ لتعرَّضْنا لمعاداة الناس كلِّهم، ولم يكن لنا بهم طاقةٌ. وهذا الكلام منهم يدلُّ على سوءِ الظنِّ بالله تعالى، وأنَّه لا ينصرُ دينَه ولا يُعلي كلمتَه، بل يمكِّنُ الناسَ من أهل دينه، فيسومونهم سوء العذاب، وظنُّوا أنَّ الباطلَ سيعلو على الحقِّ. قال الله مبيناً لهم حالةً هم بها دون الناس وأنَّ الله اختصَّهم بها، فقال: {أولم نمكِّن لهم حرماً آمناً يُجْبى إليه ثمراتُ كلِّ شيءٍ رزقاً من لَدُنَّا}؛ أي: أولم نجعلْهم متمكِّنين مُمَكَّنين في حرم يكثره المنتابون ويقصدُه الزائرون، قد احترمه القريبُ والبعيد؛ فلا يُهاج أهلُه، ولا يُنْتَقَصون بقليل ولا كثير، والحالُ أنَّ كلَّ ما حولهم من الأماكن قد حَفَّ بها الخوف من كلِّ جانب، وأهلُها غيرُ آمنين ولا مطمئنِّين؛ فَلْيَحْمَدوا ربَّهم على هذا الأمن التامِّ الذي ليس فيه غيرُهم، وعلى الرزق الكثير الذي يُجْبى إليهم من كلِّ مكان من الثمرات والأطعمة والبضائع ما به يرتزقون ويتوسَّعون، ولْيَتَّبِعوا هذا الرسولَ الكريم؛ لِيَتِمَّ لهم الأمنُ والرغدُ، وإياهم وتكذيبَه والبطرَ بنعمة الله؛ فيبدَّلوا من بعدِ أمْنِهم خوفاً، وبعد عزِّهم ذُلاًّ، وبعد غناهم فقراً.