اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔
En
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِذَاسَمِعُوااللَّغْوَاَعْرَضُوْا ﴾”اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں “ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿وَقَالُوْا ﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانند ان سے کہتے ہیں: ﴿ لَنَاۤاَعْمَالُنَاوَلَكُمْاَعْمَالُكُمْ﴾”ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔“ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہو گا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَلٰ٘مٌعَلَیْكُمْ﴾”سلامتی ہو تم پر“ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمھاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لیے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں۔ ﴿ لَانَ٘بْتَ٘غِیالْجٰهِلِیْ٘نَ ﴾”ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا سمعوا اللغو}: من جاهل خاطبهم به، {قالوا}: مقالة عباد الرحمن أولي الألباب: {لنا أعمالُنا ولكم أعمالُكم}؛ أي: كلٌّ سيجازى بعمله الذي عَمِلَه وحده، ليس عليه من وزرِ غيره شيءٌ، ولزم من ذلك أنهم يتبرؤون مما عليه الجاهلون من اللغو والباطل والكلام الذي لا فائدة فيه. {سلامٌ عليكم}؛ أي: لا تسمعون منَّا إلاَّ الخير، ولا نخاطبكم بمقتضى جهلكم؛ فإنَّكم وإن رضيتُم لأنفسِكم هذا المرتعَ اللئيم؛ فإنَّا ننزِّهُ أنفسَنا عنه ونصونُها عن الخوض فيه، {لا نبتغي الجاهلين}: من كلِّ وجهٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔