اور یہ کہ اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دیا اور پیچھے نہیں مڑا۔ اے موسیٰ! آگے آ اور خوف نہ کر، یقینا تو امن والوں سے ہے۔
En
اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈالدو۔ جب دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا سانپ ہے، تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا۔ (ہم نے کہا کہ) موسٰی آگے آؤ اور ڈرومت تم امن پانے والوں میں ہو
اور یہ (بھی آواز آئی) کہ اپنی ﻻٹھی ڈال دے۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وه سانﭗ کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہوگئے اور مڑ کر رخ بھی نہ کیا، ہم نے کہا اے موسیٰ! آگے آ ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَنْاَلْ٘قِعَصَاكَ ﴾”اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں “ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّارَاٰهَاتَهْتَزُّ ﴾”پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔“ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَاجَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰىمُدْبِرًاوَّلَمْیُعَقِّبْ﴾ تو موسیٰ علیہ السلام واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ﴿ یٰمُوْسٰۤىاَ٘قْبِلْوَلَاتَخَفْ١۫اِنَّكَمِنَالْاٰمِنِیْنَ ﴾”اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔“ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿٘اَقْبِلْ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَاتَخَفْ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَمِنَالْاٰمِنِیْنَ ﴾”بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں “ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنْ ألقِ عصاكَ}: فألقاها، {فلمَّا رآها تَهْتَزُّ}: تسعى سعياً شديداً، ولها صورةٌ مُهيلة {كأنها جانٌّ}: ذكرُ الحيات العظيم، {ولَّى مُدْبِراً ولم يُعَقِّبْ}؛ أي: يرجِع لاستيلاء الروع على قلبه، فقال الله له: {يا موسى أقْبِلْ ولا تَخَفْ إنَّك من الآمنين}: وهذا أبلغُ ما يكون في التأمين وعدم الخوف؛ فإنَّ قولَه: {أقبل}: يقتضي الأمر بإقباله ويجب عليه الامتثال، ولكن قد يكونُ إقبالُهُ وهو لم يزل الأمرُ المخوفُ، فقال: {ولا تَخَفْ}: أمر له بشيئين: إقباله، وأنْ لا يكون في قلبِهِ خوفٌ. ولكن يبقى احتمالٌ، وهو أنَّه قد يُقْبِلُ وهو غير خائفٍ، ولكن لا تحصُلُ له الوقاية والأمن من المكروه فقال: {إنك من الآمنين}: فحينئذٍ اندفع المحذور من جميع الوجوه. فأقبل موسى عليه السلام غير خائف ولا مرعوبٍ، بل مطمئنًّا واثقاً بخبر ربِّه، قد ازداد إيمانُه وتمَّ يقينُه. فهذه آيةٌ أراه الله إيَّاها قبل ذَهابه إلى فرعون؛ ليكونَ على يقين تامٍّ، ليكون أجرأ له وأقوى وأصلب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔