تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 30

فَلَمَّاۤ اَتٰىہَا نُوۡدِیَ مِنۡ شَاطِیَٔ الۡوَادِ الۡاَیۡمَنِ فِی الۡبُقۡعَۃِ الۡمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنۡ یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے اس بابرکت قطعہ میں وادی کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ En
جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسٰی میں تو خدائے رب العالمین ہوں
En
پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے کہ اے موسیٰ! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب موسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰ٘وةَ لِـذِكْرِیْ (طٰہٰ:20؍14) میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلمَّا أتاها نودي: {يا موسى إنِّي أنا الله ربُّ العالمينَ}: فأخبره بألوهيَّته وربوبيَّته، ويلزم من ذلك أنْ يأمُرَه بعبادتِهِ وتألُّهه كما صرَّح به في الآية الأخرى، {فاعْبُدْني وأقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْري}.