تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ …:} تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے…۔ {” جَآنٌّ “} اور {” ثُعْبَانٌ “} کی تطبیق کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۱۰)۔
➌ { وَلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ:} یعنی اتنے خوف زدہ ہوئے کہ ایک جانب کو نہیں بلکہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں وہ سانپ پیچھے نہ پہنچ جائے۔
➍ { يٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ:} اللہ تعالیٰ نے آواز دی، اے موسیٰ! مڑ کر بھاگنے کے بجائے آگے آ، کیونکہ تو امن والوں سے ہے۔{ ”إِنَّ“ } علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سورۂ طٰہٰ (۲۱) میں بتایا: ”اسے پکڑ اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔“ مزید فوائد کے لیے سورۂ طٰہٰ (۲۱) دیکھیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنْ ألقِ عصاكَ}: فألقاها، {فلمَّا رآها تَهْتَزُّ}: تسعى سعياً شديداً، ولها صورةٌ مُهيلة {كأنها جانٌّ}: ذكرُ الحيات العظيم، {ولَّى مُدْبِراً ولم يُعَقِّبْ}؛ أي: يرجِع لاستيلاء الروع على قلبه، فقال الله له: {يا موسى أقْبِلْ ولا تَخَفْ إنَّك من الآمنين}: وهذا أبلغُ ما يكون في التأمين وعدم الخوف؛ فإنَّ قولَه: {أقبل}: يقتضي الأمر بإقباله ويجب عليه الامتثال، ولكن قد يكونُ إقبالُهُ وهو لم يزل الأمرُ المخوفُ، فقال: {ولا تَخَفْ}: أمر له بشيئين: إقباله، وأنْ لا يكون في قلبِهِ خوفٌ. ولكن يبقى احتمالٌ، وهو أنَّه قد يُقْبِلُ وهو غير خائفٍ، ولكن لا تحصُلُ له الوقاية والأمن من المكروه فقال: {إنك من الآمنين}: فحينئذٍ اندفع المحذور من جميع الوجوه. فأقبل موسى عليه السلام غير خائف ولا مرعوبٍ، بل مطمئنًّا واثقاً بخبر ربِّه، قد ازداد إيمانُه وتمَّ يقينُه. فهذه آيةٌ أراه الله إيَّاها قبل ذَهابه إلى فرعون؛ ليكونَ على يقين تامٍّ، ليكون أجرأ له وأقوى وأصلب.