اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اوراس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔
En
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں
اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسْلُكْیَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِیْجَیْبِكَتَخْرُجْبَیْضَآءَمِنْغَیْرِسُوْٓءٍ ﴾”اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔“موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضْمُمْاِلَیْكَجَنَاحَكَمِنَالرَّهْبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾”پس یہ“ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرْهَانٰ٘نِمِنْرَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں۔ ﴿ اِلٰىفِرْعَوْنَوَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕاِنَّهُمْكَانُوْاقَوْمًافٰسِقِیْنَ ﴾”فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔“ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أراه الآية الأخرى، فقال: {اسْلُكْ يَدَكَ}؛ أي: أدْخِلْها {في جيبِك تَخْرُجْ بيضاءَ من غير سوءٍ}: فسَلَكَها وأخرجها كما ذكر الله تعالى، {واضْمُمْ إليك جناحك من الرَّهْبِ}؛ أي: ضمَّ جناحك ـ وهو عضُدُك ـ إلى جنبك؛ ليزولَ عنك الرهبُ والخوفُ. {فذنِكَ}؛ أي: انقلاب العصا حيةً وخروجُ اليد بيضاء من غير سوء {برهانانِ من ربِّك}؛ أي: حجتان قاطعتان من الله {إلى فرعون وملئه إنَّهم كانوا قوماً فاسقين}: فلا يكفيهم مجردُ الإنذار وأمر الرسول إيَّاهم، بل لا بدَّ من الآيات الباهرة إن نفعت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔