اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، گھبرا جائے گا مگر جسے اللہ نے چاہا اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہوکر آئیں گے۔
En
اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے
جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے، اور سارے کے سارے عاجز وپست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَیَوْمَیُنْفَ٘خُفِیالصُّوْرِفَفَزِعَ ﴾”اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔“ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنْفِیالسَّمٰوٰتِوَمَنْفِیالْاَرْضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّامَنْشَآءَاللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُ٘لٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوْهُدٰخِرِیْنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنْكُ٘لُّمَنْفِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِاِلَّاۤاٰتِیالرَّحْمٰنِعَبْدًا﴾ (مریم:19؍93) ”زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔“ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخوِّفُ تعالى عبادَه ما أمامهم من يوم القيامة وما فيه من المحنِ والكروبِ ومزعجات القلوب، فقال: {ويوم يُنفَخُ في الصور فَفَزِغَ}: بسبب النفخ فيه {مَن في السمواتِ ومن في الأرض}؛ أي: انزعجوا وارتاعوا وماج بعضُهم ببعضٍ خوفاً مما هو مقدِّمة له {إلاَّ مَن شاء الله}: ممَّن أكرمه الله وثبَّته وحَفِظَه من الفزع. {وكلٌّ} من الخلق عند النفخ في الصور {أتَوْه داخِرينَ}: صاغِرين ذليلينَ؛ كما قال تعالى: {إن كلُّ مَن في السمواتِ والأرضِ إلاَّ آتي الرحمن عبداً}. ففي ذلك اليوم يتساوى الرؤساءُ والمرؤوسون في الذُّلِّ والخضوع لمالك الملك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔