تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 88

وَ تَرَی الۡجِبَالَ تَحۡسَبُہَا جَامِدَۃً وَّ ہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ صُنۡعَ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اَتۡقَنَ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہٗ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾
اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے، انھیںجمے ہوئے گمان کرتا ہے، حالانکہ وہ(اس وقت) بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے، اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ یقینا وہ اس سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ En
اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اُڑے پھریں گے جیسے بادل۔ (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ بےشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے
En
اور آپ پہاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کرتے ہیں لیکن وه بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے، یہ ہے صنعت اللہ کی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے، جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وه باخبر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں۔ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَ٘تْ٘قَ٘نَ كُ٘لَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن هَوْلِهِ أنَّك {ترى الجبال تَحْسَبُها جامدةً}: لا تفقد شيئاً منها ، وتظنُّها باقية على الحال المعهودة، وهي قد بلغت منها الشدائدُ والأهوالُ كلَّ مبلغ، وقد تفتَّت، ثم تضمحلُّ وتكون هباءً منبثًّا، ولهذا قال: {وهي تَمُرُّ مَرَّ السحاب}: من خفَّتها وشدَّة ذلك الخوف، وذلك {صُنْعَ اللهِ الذي أتقنَ كلَّ شيءٍ إنه خبيرٌ بما [تفعلونَ] }: فيجازيكم بأعمالكم.