کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا ہے کہ اس میں کام کریں) بےشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں
کیا وه دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو اس لیے بنایا ہے کہ وه اس میں آرام حاصل کرلیں اور دن کو ہم نے دکھلانے واﻻ بنایا ہے، یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان ویقین رکھتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی کیا انھوں نے اس عظیم نشانی اور بہت بڑی نعمت کا مشاہدہ نہیں کیا؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شب و روز کو مسخر کر دیا۔ یہ رات اپنے اندھیرے کی وجہ سے نعمت ہے لوگ اس میں سکون پاتے اور تھکن سے آرام کرتے ہیں اور کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور دن اپنی روشنی کی وجہ سے نعمت ہے تاکہ لوگ اس روشنی میں پھیل جائیں اور اپنی معاش اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہو جائیں۔ ﴿ اِنَّفِیْذٰلِكَلَاٰیٰتٍلِّقَوْمٍیُّؤْمِنُوْنَ ﴾”اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں “ اللہ تعالیٰ کی کامل وحدانیت اور اس کی بے پایاں نعمت پر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ألم يشاهِدوا هذه الآية العظيمة والنعمةَ الجسيمةَ، وهو تسخيرُ الله لهم الليل والنهار، هذا بظلمتِهِ لِيَسْكُنوا فيه ويستريحوا من التعب ويستعدُّوا للعمل، وهذا بضيائه لينتَشِروا فيه في معاشهم وتصرُّفاتهم. {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يؤمنونَ}: على كمالِ وحدانيَّة الله وسبوغ نعمتِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔