تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 85

وَ وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَہُمۡ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور ان پر بات واقع ہوجائے گی، اس کے بدلے جو انھوں نے ظلم کیا، پس وہ نہیں بولیں گے۔ En
اور اُن کے ظلم کے سبب اُن کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہوکر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے
En
بسبب اس کے کہ انہوں نے ﻇلم کیا تھا ان پر بات جم جائے گی اور وه کچھ بول نہ سکیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَوَقَ٘عَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ تو وہ بول نہیں سکیں گے۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ووقع القول عليهم بما ظلموا}؛ أي: حقت عليهم كلمة العذاب بسبب ظلمهم الذي استمرُّوا عليه وتوجهت عليهم الحجة، {فهم لا ينطِقونَ}: لأنه لا حجة لهم.