ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 86

اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِیَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۶﴾
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا ہے کہ اس میں کام کریں) بےشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں
En
کیا وه دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو اس لیے بنایا ہے کہ وه اس میں آرام حاصل کرلیں اور دن کو ہم نے دکھلانے واﻻ بنایا ہے، یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان ویقین رکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 86) {اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ …:} حشر کا ذکر فرمایا تو اس کی دلیل کے طور پر رات کی نیند اور ظلمت کا ذکر فرمایا، جو ایک طرح کی موت ہے اور دن کی بیداری اور اجالے کا ذکر فرمایا، جو زندگی ہے۔ (دیکھیے زمر: ۴۲) یعنی کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ موت و حیات کا یہ سلسلہ ہر روز ان کے مشاہدے میں آتا ہے، بلکہ خود ان کی ذات پر گزرتا ہے، جس میں ان کے لیے سکون اور تلاش رزق کی نعمتیں بھی موجود ہیں۔ صرف یہ دو نشانیاں ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو قیامت پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86-1تاکہ وہ اس میں کسب معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرسکیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ہم نے رات اس لئے بنائی کہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا (تاکہ وہ کام کاج کر سکیں) اس میں بھی ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں [91] ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
[91] یعنی دن اور رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے اور آتے جاتے رہنے میں ایک نہیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بے شمار نشانیاں ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ نشانیاں ایسی ہیں جنہیں ہر شخص ہر وقت مشاہدہ کر سکتا ہے کیا تم نے کبھی سوچا کہ یہ دن رات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی راتیں لمبی ہو جاتی ہیں اور کبھی دن اور کبھی اس کے برعکس۔ پھر موسموں کے تغیر و تبدل پر بھی غور کیا تھا کہ سورج اور تمہاری زمین کا باہمی کیا تعلق ہے؟ یہ عظیم الشان تعلق قائم کرنا پھر ہر وقت اس نظام پر کنٹرول رکھنا کیا یہ سب کچھ اتفاقی امور تھے یا کوئی مقتدر ہستی یہ نظام چلا رہی تھی۔ اور اس نظام سے تمہارے کس قدر مفادات وابستہ ہیں۔ دن بھر کام کرنے سے جس قدر بدن کے اجزاء تحصیل ہوتے ہیں اور تھکن ہو جاتی ہے۔ رات کو وہ سب پھر سے پیدا ہو جاتے ہیں اور صبح انسان کی تھکن دور اور وہ تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے۔ نیز ایسا مربوط اور حکیمانہ نظام اسی صورت میں ہی قائم رہ سکتا ہے کہ اس کو بنانے، چلانے اور کنٹرول کرنے والی صرف ایک ہی ہستی ہو یا کئی ہستیاں مل کر کیا ایسا حکیمانہ اور مربوط نظام چلا سکتی ہیں۔ اسی ایک رات اور دن کے مسئلہ میں تم غور و فکر کرتے تو تمہیں ہدایت نصیب ہو سکتی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی کیا انھوں نے اس عظیم نشانی اور بہت بڑی نعمت کا مشاہدہ نہیں کیا؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شب و روز کو مسخر کر دیا۔ یہ رات اپنے اندھیرے کی وجہ سے نعمت ہے لوگ اس میں سکون پاتے اور تھکن سے آرام کرتے ہیں اور کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور دن اپنی روشنی کی وجہ سے نعمت ہے تاکہ لوگ اس روشنی میں پھیل جائیں اور اپنی معاش اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہو جائیں۔ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی کامل وحدانیت اور اس کی بے پایاں نعمت پر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ألم يشاهِدوا هذه الآية العظيمة والنعمةَ الجسيمةَ، وهو تسخيرُ الله لهم الليل والنهار، هذا بظلمتِهِ لِيَسْكُنوا فيه ويستريحوا من التعب ويستعدُّوا للعمل، وهذا بضيائه لينتَشِروا فيه في معاشهم وتصرُّفاتهم. {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يؤمنونَ}: على كمالِ وحدانيَّة الله وسبوغ نعمتِهِ.