(آیت 85){ وَوَقَعَالْقَوْلُعَلَيْهِمْبِمَاظَلَمُوْا …:} یعنی ان پر اللہ کی حجت قائم ہو گئی، اس لیے وہ بول ہی نہیں سکیں گے کہ کوئی عذر پیش کر سکیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ اس وقت ہو گا جب ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
85-1یعنی ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا کہ جسے وہ پیش کرسکیں۔ یا قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے بولنے کی قدرت سے ہی محروم ہونگے اور بعض کے نزدیک یہ اس وقت کی کیفیت کا بیان ہے جب ان کے من ہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
85۔ اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر (عذاب کی) بات پوری ہو جائے گی تو وہ بول [90] بھی نہ سکیں گے
[90] یعنی ان پر الٹ پڑے گی، ان کا قصور ثابت ہو جائے گا کہ وہ واقعی اللہ کی آیات کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ کرتے رہے۔ لہٰذا انھیں اس سوال کا کوئی جواب میسر نہ آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَوَقَ٘عَالْقَوْلُعَلَیْهِمْبِمَاظَلَمُوْا﴾ اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمْلَایَنْطِقُوْنَ ﴾”تو وہ بول نہیں سکیں گے۔“ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ووقع القول عليهم بما ظلموا}؛ أي: حقت عليهم كلمة العذاب بسبب ظلمهم الذي استمرُّوا عليه وتوجهت عليهم الحجة، {فهم لا ينطِقونَ}: لأنه لا حجة لهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔