تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 84

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّا ذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾
یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے تو فرمائے گا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا، حالانکہ تم نے ان کا پورا علم حاصل نہ کیا تھا، یا کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے؟ En
یہاں تک کہ جب (سب) آجائیں گے تو (خدا) فرمائے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلا دیا تھا اور تم نے (اپنے) علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا۔ بھلا تم کیا کرتے تھے
En
جب سب کے سب آپہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے میری آیتوں کو باوجودیکہ تمہیں ان کا پورا علم نہ تھا کیوں جھٹلایا؟ اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجروتوبیخ کرتے اور ڈانٹتے ہوئے پوچھے گا ﴿ اَ كَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمھارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہو جاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کر دی جبکہ تمھیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ﴿ اَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لیے یا ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف پائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{حتى إذا جاؤوا}: وحضروا؛ قال لهم موبِّخاً ومقرِّعاً: {أكذَّبْتُم بآياتي ولم تحيطوا بها علماً}؛ أي: الواجب عليكم التوقف حتى ينكشف لكم الحقُّ، وأن لا تتكلَّموا إلا بعلم؛ فكيف كذبتم بأمر لم تحيطوا به علماً. {أم ماذا كنتم تعملونَ}؛ أي: يسألهم عن علمهم وعن عملهم، فيجد علمهم تكذيباً بالحق وعَمَلَهم لغير الله، أو على غير سنة رسولهم.