تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 51

فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکۡرِہِمۡ ۙ اَنَّا دَمَّرۡنٰہُمۡ وَ قَوۡمَہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۵۱﴾
پس دیکھ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے انھیں اور ان کی قوم، سب کو ہلاک کر ڈالا۔ En
تو دیکھ لو ان کی چال کا کیسا انجام ہوا۔ ہم نے ان کو اور ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا
En
(اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کردیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَانْ٘ظُ٘رْؔ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا: ﴿اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فانظرْ كيف كان عاقِبَةُ مَكْرِهِم}: هل حصل مقصودُهم وأدركوا بذلك المكر مطلوبَهم؟ أم انتقضَ عليهم الأمر؟! ولهذا قال: {أنَّا دَمَّرْناهم وقومَهم أجمعينَ}: أهلَكْناهم واستأصَلْنا شأفَتَهم فجاءتهم صيحةُ عذابٍ فأُهْلِكوا عن آخرهم.