تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 50

وَ مَکَرُوۡا مَکۡرًا وَّ مَکَرۡنَا مَکۡرًا وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
اور انھوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال چلی اور وہ سوچتے تک نہ تھے۔ En
اور وہ ایک چال چلے اور ان کو کچھ خبر نہ ہوئی
En
انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا اور ہم نے بھی اور وه اسے سمجھتے ہی نہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَكَرُوْا مَكْرًا اور انھوں نے مکر کیا۔ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح علیہ السلام اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالح علیہ السلام کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرْنَا مَكْرًا اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔ یعنی اپنے نبی صالح علیہ السلام کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمْ لَا یَشْ٘عُرُوْنَ اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فتواطؤوا على ذلك، {ومكروا مكراً}: دبَّروا أمرهم على قتل صالح وأهله على وجه الخُفْيَةِ حتى من قومهم خوفاً من أوليائه، {ومَكَرْنا مكراً}: بنصرِ نبيِّنا صالح عليه السلام وتيسيرِ أمرِهِ وإهلاكِ قومِهِ المكذِّبين. {وهم لا يشعُرونَ}.