تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 52

فَتِلۡکَ بُیُوۡتُہُمۡ خَاوِیَۃًۢ بِمَا ظَلَمُوۡا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۲﴾
تو یہ ہیں ان کے گھر گرے ہوئے، اس کے باعث جو انھوں نے ظلم کیا۔ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو جانتے ہیں۔ En
اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں۔ جو لوگ دانش رکھتے ہیں، ان کے لئے اس میں نشانی ہے
En
یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ﻇلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہیں، جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لیےاس میں بڑی نشانی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةً اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں۔ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوْا بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فتلك بيوتُهم خاويةٌ}: قد تهدَّمت جدرانُها على سقوفِها، وأوحشتْ من ساكِنِها، وعطِّلَتْ من نازليها {بما ظَلَموا}؛ أي: هذا عاقبةُ ظلمهم وشِرْكِهم بالله وبغيِهِم في الأرض. {إنَّ في ذلك لآيةً لقومٍ يعلمونَ}: الحقائق، ويتدبَّرون وقائعَ الله في أوليائِهِ وأعدائِهِ، فيعتبِرون بذلك، ويعلمون أنَّ عاقبة الظُّلم الدَّمار والهلاك، وأنَّ عاقبة الإيمان والعدل النجاة والفوز.