اس آیت کی تفسیر آیت 50 میں تا آیت 52 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51-1یعنی ہم نے مذکورہ-9سرداروں کو ہی نہیں، بلکہ ان کی قوم کو بھی مکمل طور پر ہلاک کردیا۔ کیونکہ وہ قوم ہلاکت کے اصل سبب کفر میں مکمل طور پر ان کے ساتھ شریک تھی اور گو عملی طور ان کے منصوبہ قتل میں شریک نہ ہوسکی تھی۔ کیونکہ یہ منصوبہ خفیہ تھا۔ لیکن ان کی منشاء اور دلی آرزو کے عین مطابق تھا اس لئے وہ بھی گویا اس مکر میں شریک تھی جو-9افراد نے حضرت صالح ؑ اور ان کے اہل کے خلاف تیار کیا تھا۔ اس لئے پوری قوم ہی ہلاکت کی مستحق قرار پائی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ سو دیکھو ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے ان سرغنوں اور ان کی قوم سب کو تباہ کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَانْ٘ظُ٘رْؔكَیْفَكَانَعَاقِبَةُمَكْرِهِمْ﴾”پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟“ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا: ﴿اَنَّادَمَّرْنٰهُمْوَقَوْمَهُمْاَجْمَعِیْنَ﴾”ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔“ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فانظرْ كيف كان عاقِبَةُ مَكْرِهِم}: هل حصل مقصودُهم وأدركوا بذلك المكر مطلوبَهم؟ أم انتقضَ عليهم الأمر؟! ولهذا قال: {أنَّا دَمَّرْناهم وقومَهم أجمعينَ}: أهلَكْناهم واستأصَلْنا شأفَتَهم فجاءتهم صيحةُ عذابٍ فأُهْلِكوا عن آخرهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔