تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 47

قَالُوا اطَّیَّرۡنَا بِکَ وَ بِمَنۡ مَّعَکَ ؕ قَالَ طٰٓئِرُکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ ﴿۴۷﴾
انھوں نے کہا ہم نے تیرے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں، بدشگونی پکڑی ہے۔ کہا تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے، بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو۔ En
وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہے۔ صالح نے کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے
En
وه کہنے لگے ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوا انھوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّیَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں۔ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح علیہ السلام میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالح علیہ السلام اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا}: لنبيِّهم صالحٍ مكذِّبين ومعارضينَ: {اطَّيَّرْنا بك وبمن معك}: زعموا قَبَّحَهُمُ الله أنهم لم يَرَوْا على وجهِ صالحٍ خيراً، وأنَّه هو ومن معه من المؤمنين صاروا سبباً لمنع بعض مطالبهم الدنيويَّة! فقال لهم صالحٌ: {طائِرُكم عند الله}؛ أي: ما أصابكم إلاَّ بذنوبكم. {بل أنتم قومٌ تُفْتَنون}: بالسَّراء والضرَّاء، والخير والشرِّ؛ لينظر هل تُقْلِعون وتتوبون أم لا؛ فهذا دأبُهم في تكذيبِ نبيِّهم وما قابَلوه به.