تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 46

قَالَ یٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ ۚ لَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
کہا اے میری قوم! تم بھلائی سے پہلے برائی کیوں جلدی مانگتے ہو، تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ En
صالح نے کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
En
آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں مچا رہے ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سےاستغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ انھوں (صالح علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوْلَا تَ٘سْتَغْفِرُوْنَ۠ اللّٰهَ تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال يا قوم لم تستعجلونَ بالسيئة قبل الحسنة}؛ أي: لم تبادرونَ فعل السيئاتِ وتحرصونَ عليها قبل فعل الحسناتِ التي بها تحسُنُ أحوالُكم وتصلُحُ أمورُكم الدينيَّة والدنيويَّة، والحالُ أنَّه لا موجبَ لكم إلى الذَّهاب لفعل السيئات {لولا تستغفِرون اللهَ}: بأن تتوبوا من شِرْكِكُم وعِصْيانِكم وتَدْعونَ أن يغفر لكم، {لعلَّكم تُرحمون}: فإنَّ رحمة الله قريبٌ من المحسنين، والتائبُ من الذُّنوب هو من المحسنين.