ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 47

قَالُوا اطَّیَّرۡنَا بِکَ وَ بِمَنۡ مَّعَکَ ؕ قَالَ طٰٓئِرُکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ ﴿۴۷﴾
انھوں نے کہا ہم نے تیرے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں، بدشگونی پکڑی ہے۔ کہا تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے، بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو۔ En
وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہے۔ صالح نے کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے
En
وه کہنے لگے ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) ➊ {قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ …: اطَّيَّرْنَا } اصل میں {تَطَيَّرْنَا} ہے، (ہم نے بدشگونی لی) تاء کو ساکن کرکے طاء میں ادغام کیا اور پہلا حرف ساکن ہو جانے کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصلی کا اضافہ کر دیا۔ ادغام کی وجہ سے بدشگونی کے معنی میں شدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ صالح علیہ السلام کو جھٹلانے والوں نے کہا کہ ہم نے تمھارے اور تمھارے ساتھیوں کے ساتھ بدشگونی پکڑی ہے اور تمھیں منحوس ہی پایا ہے کہ آئے دن ہم پر آفات و مصائب کا ہجوم رہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کا باعث تم اور تمھارے ساتھی ہیں۔ آل فرعون پر جب مختلف عذاب آئے تو انھوں نے بھی یہی بات کہی تھی: «{ فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ [الأعراف: ۱۳۱] تو جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے ہی لیے ہے اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔ سورۂ یٰس میں مذکور بستی کے لوگوں نے بھی اپنے رسولوں سے یہی کہا تھا: «{ اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ [یٰسٓ: ۱۸] بے شک ہم نے تمھیں منحوس پایا ہے، یقینا اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمھیں سنگسار کر دیں گے اور تمھیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کفار ایسے ہی کہتے تھے: «{ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا [النساء: ۷۸] اور اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے، پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔
➋ {قَالَ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۱) کی تفسیر۔
➌ { بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ:} یعنی تمھارے مصائب کا سبب ہمارا منحوس ہونا نہیں، بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ اب تمھارا امتحان شروع ہے کہ تم آفات و مصائب سے سبق حاصل کرکے ایمان قبول کرتے ہو یا کفر پر جمے رہتے ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47-1عرب جب کسی کام کا یا سفر کا ارادہ کرتے تو پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب اڑتا تو اسے نیک شگون سمجھتے اور وہ کام کر گزرتے یا سفر پر روانہ ہوجاتے اور اگر بائیں جانب اڑتا تو بد شگونی سمجھتے اور اس کام یا سفر سے رک جاتے (فتح القدیر) اسلام میں یہ بدشگونی اور نیک شگونی جائز نہیں ہے البتہ فال نکالنا جائز ہے 47-2یعنی اہل ایمان نحوست کا باعث نہیں ہیں جیسا کہ تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا اصل سبب اللہ ہی کے پاس ہے کیونکہ قضا و تقدیر اسی کے اختیار میں ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو نحوست پہنچی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا سبب تمہارا کفر ہے۔ فتح القدیر 47-3یا گمراہی میں ڈھیل دے کر تمہیں آزمایا جا رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ وہ کہنے لگے ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں [47] (صالح نے) کہا: ”تمہاری نحوست تو اللہ کے پاس ہے بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم لوگ آزمائش [48] میں پڑے ہوئے ہو“
[47] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ جب سے تم نے اپنی نبوت کا ڈھونگ رچایا ہے۔ اس وقت سے ہم پر کوئی نہ کوئی افتاد پڑی ہی رہتی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم سب ایک ہی قوم تھے۔ تم نے آکر ہم میں پھوٹ ڈال دی۔ اور ہماری زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ یہ سب تمہاری ہی نحوست ہے اور یہی اعتراض کفار مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا۔
[48] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تم پر جو وقتاً فوقتاً کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو یہ تمہاری تنبیہ کے لئے آتی ہے اور تمہیں سنبھلنے کے لئے کچھ مزید مہلت دی جاتی ہے اور دوسرا یہ کہ قوم کے جو دو فریق بن چکے ہیں تو اسی بات میں تمہاری آزمائش ہو رہی ہے تم حق کا ساتھ دیتے ہو یا باطل کا اور اگر باطل کا ساتھ دیتے ہو تو اس میں کس حد تک سرگرمیاں دکھاتے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوا انھوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّیَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں۔ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح علیہ السلام میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالح علیہ السلام اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا}: لنبيِّهم صالحٍ مكذِّبين ومعارضينَ: {اطَّيَّرْنا بك وبمن معك}: زعموا قَبَّحَهُمُ الله أنهم لم يَرَوْا على وجهِ صالحٍ خيراً، وأنَّه هو ومن معه من المؤمنين صاروا سبباً لمنع بعض مطالبهم الدنيويَّة! فقال لهم صالحٌ: {طائِرُكم عند الله}؛ أي: ما أصابكم إلاَّ بذنوبكم. {بل أنتم قومٌ تُفْتَنون}: بالسَّراء والضرَّاء، والخير والشرِّ؛ لينظر هل تُقْلِعون وتتوبون أم لا؛ فهذا دأبُهم في تكذيبِ نبيِّهم وما قابَلوه به.