تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَكَانَفِیالْمَدِیْنَةِ﴾”اور شہر میں تھے۔“ یعنی اس شہر میں، جس میں صالح علیہ السلام اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسْعَةُرَهْطٍیُّفْسِدُوْنَفِیالْاَرْضِوَلَایُصْلِحُوْنَ﴾”نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔“ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالح علیہ السلام کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاتَّقُوااللّٰهَوَاَطِیْعُوْنِۚ۰۰وَلَاتُطِیْعُوْۤااَمْرَالْ٘مُسْرِفِیْنَۙ۰۰الَّذِیْنَیُفْسِدُوْنَفِیالْاَرْضِوَلَایُصْلِحُوْنَ ﴾ (الشعراء:26؍150۔152) ”اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكان في المدينةِ}: التي فيها صالحٌ، الجامعة لمعظم قومه {تسعةُ رهطٍ يفسِدون في الأرض ولا يُصْلِحونَ}؛ أي: وصفُهُم الإفساد في الأرض، ولا لهم قصدٌ ولا فعلٌ بالإصلاح، قد استعدُّوا لمعاداةِ صالح والطعنِ في دينِهِ ودعوةِ قومهم إلى ذلك؛ كما قال تعالى: {فاتقوا اللهَ وأطيعونِ. ولا تُطيعوا أمر المسرِفينَ. الذين يُفْسِدونَ في الأرض ولا يُصْلِحونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔