تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 41

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالُوۡا لِفِرۡعَوۡنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۴۱﴾
پھر جب جادوگر آگئے تو انھوں نے فرعون سے کہا کیا واقعی ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہوگا، اگر ہم ہی غالب ہوئے؟ En
جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا؟
En
جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ پس جب جادوگر آ گئے۔ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔ ﴿ قَالَ نَعَمْ کہا ضرور تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمْ اِذًا لَّ٘مِنَ الْ٘مُقَرَّبِیْنَ اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلما جاء السحرةُ}: ووصلوا لفرعونَ؛ قالوا له: {أإنَّ لنا لأجراً إنْ كنَّا نحنُ الغالبينَ}: لموسى، {قال نعم}: لكم أجر وثواب، وإنَّكم لَمِنَ المقرَّبينَ عندي؛ وعَدَهم الأجرَ والقربةَ منه؛ ليزدادَ نشاطُهم ويأتوا بكلِّ مقدورِهم في معارضة ما جاء به موسى.