تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی، بعدازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار، تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلِلّٰهِمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق، رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے: ﴿ وَاِلَىاللّٰهِالْمَصِیْرُ ﴾ یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما بيَّن عبوديَّتهم وافتقارهم إليه من جهة العبادة والتوحيد؛ بيَّن افتقارَهم من جهة الملك والتربية والتدبير، فقال: {ولله ملكُ السمواتِ والأرض}: خالقهما ورازقهما والمتصرِّفُ فيهما في حكمه الشرعيِّ والقدريِّ في هذه الدار وفي حكمه الجزائيِّ بدار القرار؛ بدليل قوله: {وإلى الله المصيرُ}؛ أي: مرجع الخلق ومآلهم ليجازِيَهم بأعمالهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔