(آیت 42){ وَلِلّٰهِمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ …:} آسمان و زمین یعنی پوری کائنات میں حقیقی بادشاہی صرف اللہ کی ہے، اسی نے سب کو پیدا فرمایا، زندگی کا سارا سلسلہ وہی چلا رہا ہے اور سب کی واپسی بھی آخر کار اسی کی طرف ہے۔ نہ دنیا میں اس کی سلطنت میں کسی کا دخل ہے نہ آخرت میں اس کے سوا کسی کا کوئی دخل ہو گا۔ جب زمین و آسمان اور دنیا و آخرت میں سارا اختیار اسی کا ہے تو پھر دوسرے کی عبادت کیوں ہو!
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
42-1پس وہی اصل حاکم ہے، جس کے حکم کا کوئی تعاقب کرنے والا نہیں اور وہی معبود برحق ہے، جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں ہر ایک کے بارے میں عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ نیز آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُلَهُالسَّمَاوَاتُالسَّبْعُوَالْأَرْضُوَمَنْفِيهِنَّوَإِنْمِنْشَيْءٍإِلَّايُسَبِّحُبِحَمْدِهِوَلَكِنْلَاتَفْقَهُونَتَسْبِيحَهُمْإِنَّهُكَانَحَلِيمًاغَفُورًا»۱؎[17-الإسراء:44] ’ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں ‘۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی، بعدازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار، تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلِلّٰهِمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق، رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے: ﴿ وَاِلَىاللّٰهِالْمَصِیْرُ ﴾ یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما بيَّن عبوديَّتهم وافتقارهم إليه من جهة العبادة والتوحيد؛ بيَّن افتقارَهم من جهة الملك والتربية والتدبير، فقال: {ولله ملكُ السمواتِ والأرض}: خالقهما ورازقهما والمتصرِّفُ فيهما في حكمه الشرعيِّ والقدريِّ في هذه الدار وفي حكمه الجزائيِّ بدار القرار؛ بدليل قوله: {وإلى الله المصيرُ}؛ أي: مرجع الخلق ومآلهم ليجازِيَهم بأعمالهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔