کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے، پھر اسے آپس میں ملاتا ہے، پھر اسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں میں سے جو اس میں ہیں، کچھ اولے اتارتا ہے، پھر انھیں جس کے پاس چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے اور انھیں جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو لے جائے۔
En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کیا تو نے اپنی آنکھوں کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ کیسے ﴿ یُزْجِیْسَحَابً٘ا ﴾”بادل کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ہانکتا ہے“﴿ثُمَّیُؤَلِّفُ ﴾ پھر وہ ان بدلیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کو پہاڑوں کی مانند گہرا ابر بنا دیتا ہے۔﴿ فَتَرَىالْوَدْقَ ﴾ تو ان بادلوں میں سے متفرق قطروں کی صورت میں بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتا ہے تاکہ کسی ضرر کے بغیر اس بارش سے فائدہ حاصل ہو۔ پس اس بارش سے بڑے بڑے تالاب بھر جاتے ہیں، دریا ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں، وادیاں بہہ نکلتی ہیں اور روئے زمین پر قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بادل میں سے ژالہ باری بھی کرتا ہے یہ ژالہ باری جہاں ہوتی ہے ہر چیز کو تلف کر کے رکھ دیتی ہے۔ ﴿ فَیُصِیْبُبِهٖمَنْیَّشَآءُوَیَصْرِفُهٗعَنْمَّنْیَّشَآءُ﴾ پس وہ اپنے حکم کونی و قدری کے تقاضے اور اپنی قابل ستائش حکمت کے مطابق جس پر چاہتا ہے ژالہ باری کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس ژالہ باری سے بچا لیتا ہے۔﴿ یَكَادُسَنَابَرْقِهٖ ﴾ یعنی اس بادل میں کوندنے والی بجلی اپنی تیز روشنی کی وجہ سے، قریب ہے کہ ﴿ یَذْهَبُبِالْاَبْصَارِ﴾”آنکھوں کو لے جائے۔“ وہ ہستی، جس نے ان بادلوں کو اٹھایا اور ان کو اپنے ان بندوں تک پہنچایا جو اس کے محتاج ہیں اور ان کو اس طرح برسایا کہ اس بارش سے فائدہ حاصل ہو اور نقصان نہ ہو… کیا وہ کامل قدرت، اٹل مشیت اور بے پایاں رحمت کی مالک نہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ألم تشاهدْ ببصرِك عظيمَ قدرةِ الله وكيف {يُزْجي}؛ أي: يسوق {سحاباً}: قطعاً متفرقة، {ثم يؤلِّفُ}: بين تلك القطع، فيجعلُه سحاباً متراكماً مثل الجبال {فترى الوَدْقَ}؛ أي: الوابل والمطر يخرجُ من خلال السحابِ نقطاً متفرِّقة؛ ليحصُلَ بها الانتفاع من دون ضررٍ، فتمتلئ بذلك الغُدران، وتتدفَّق الخُلجان، وتسيل الأوديةُ، وتنبتُ الأرض من كلِّ زوج كريم. وتارةً ينزِّلُ الله من ذلك السحاب بَرَداً يُتْلِفُ ما يصيبُه {فيصيبُ به من يشاءُ ويصرِفُه عن مَن يشاءُ}؛ أي: بحسب اقتضاء حكمه القدريِّ وحكمتِهِ التي يُحْمَدُ عليها، {يكاد سَنا بَرْقِهِ}؛ أي: يكادُ ضوءُ برق ذلك السحاب من شدَّته {يذهبُ بالأبصارِ}؛ أليس الذي أنشأها وساقَها لعبادِهِ المفتقرين وأنزلها على وجهٍ يحصُلُ به النفع وينتفي به الضررُ كاملَ القدرة نافذَ المشيئة واسعَ الرحمة؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔