کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے، لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمْتَرَاَنَّاللّٰهَیُسَبِّحُلَهٗمَنْفِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔“ یعنی تمام حیوانات و جمادات﴿ وَالطَّیْرُصٰٓفّٰتٍ﴾ اور وہ پرندے (جو آسمان میں) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُ٘لٌّ ﴾”ہر ایک نے“ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدْعَلِمَصَلَاتَهٗوَتَسْبِیْحَهٗ ﴾”جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔“ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز اور تسبیح الہام کی ہے خواہ انبیاء ومرسلین کے توسط سے، جیسے جنوں، انسانوں اور فرشتوں کی نماز اور تسبیح۔ یا اپنی جانب سے الہام کے ذریعے سے، جیسے دیگر مخلوق اور یہ احتمال زیادہ راجح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿وَاللّٰهُعَلِیْمٌۢبِمَایَفْعَلُوْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انھیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں، جو جزا و سزا کو متضمن ہیں، اپنے علم کو جمع کر دیا۔
آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدْعَلِمَصَلَاتَهٗوَتَسْبِیْحَهٗ﴾ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے… اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کیا ہے… یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ تُ٘سَبِّحُلَهُالسَّمٰوٰتُالسَّبْعُوَالْاَرْضُوَمَنْفِیْهِنَّ١ؕوَاِنْمِّنْشَیْءٍاِلَّایُسَبِّحُبِحَمْدِهٖوَلٰكِنْلَّاتَفْقَهُوْنَتَسْبِیْحَهُمْ١ؕاِنَّهٗكَانَحَلِیْمًاغَفُوْرًؔا﴾ (بنی اسرائیل:17؍44) ”ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
نبَّه تعالى عبادَه على عظمتِهِ وكمال سلطانِهِ وافتقارِ جميع المخلوقاتِ له في ربوبيَّتها وعبادتها، فقال: {ألم تر أنَّ الله يسبِّحُ له مَن في السمواتِ والأرضِ}: من حيوان وجمادٍ، {والطيرُ صافاتٍ}؛ أي: صافات أجنِحَتِها في جوِّ السماء تسبِّحُ ربَّها. {كلٌّ}: من هذه المخلوقات {قد عَلِمَ صلاتَه وتسبيحَه}؛ أي: كلٌّ له صلاةٌ وعبادةٌ بحسب حاله اللائقة به، وقد ألهمه الله تلك الصلاة والتسبيح: إما بواسطة الرسل كالجن والإنس والملائكة، وإما بإلهام منه تعالى كسائر المخلوقات غير ذلك.
وهذا الاحتمال أرجح؛ بدليل قوله: {واللهُ عليمٌ بما يفعلونَ}؛ أي: علم جميعَ أفعالها، فلم يخفَ عليه منه شيء، وسيجازيهم بذلك، فيكون على هذا قد جَمَعَ بين علمها بأعمالهم، وذلك بتعليمه، وبين علمه بأعمالهم المتضمِّن للجزاء. ويُحتمل أنَّ الضمير في قوله: {قد علم صلاتَه وتسبيحَه}: يعودُ إلى الله، وأنَّ الله تعالى قد عَلِمَ عباداتِهِم، وإنْ لم تَعْلَموا أيُّها العبادُ منها إلاَّ ما أطلعكم الله عليه. وهذه الآية كقوله تعالى: {تُسَبِّحُ له السمواتُ السبعُ والأرضُ ومَنْ فيهنَّ وإن من شيءٍ إلاَّ يسبِّح بحمدِهِ ولكن لا تَفْقَهونَ تسبيحَهم إنَّه كان حليماً غفوراً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔