یا ان اندھیروں کی طرح جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو قریب نہیں کہ اسے دیکھے اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔
En
یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانﭗ رکھا ہو، پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پےدرپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے، اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کفار کا بھی یہی حال ہے، ان کے دلوں کو تہ در تہ تاریکیوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ طبیعت کی تاریکی، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، اس کے اوپر کفر کی تاریکی، اس کے اوپر جہالت کی تاریکی اور اس کے اوپر ان مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے صادر ہونے والے اعمال کی تاریکی… پس کفار ان اندھیروں میں متحیر، اپنی جہالت میں سرگرداں، صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے، ضلالت اور گمراہی کے راستوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی توفیق سے محروم کر کے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اور انھیں اپنا نور عطا نہیں کیا۔
﴿ وَمَنْلَّمْیَجْعَلِاللّٰهُلَهٗنُوْرًؔافَمَالَهٗمِنْنُّوْرٍ ﴾”اور جس کے حصے میں اللہ نور نہ کرے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں۔“ کیونکہ اس کا نفس ظالم اور جاہل ہے، اس میں کوئی بھلائی اور کوئی روشنی نہیں سوائے اس بھلائی اور روشنی کے جو اس کا رب اسے عطا کر دے… ان دونوں تمثیلوں میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے تمام کفار کے اعمال مراد ہوں۔ دونوں تمثیلیں کفار کے اعمال پر منطبق ہوتی ہیں اور اعمال کے تعدد اوصاف کی بنا پر ان کو متعدد بیان کیا ہے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں مثالیں الگ الگ گروہوں کے لیے بیان کی گئی ہوں۔ پہلی تمثیل قائدین کے لیے اور دوسری مثال پیروکاروں کے لیے ہو۔واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والمثل الثاني لبطلان أعمال الكفار: {كظُلُماتٍ في بحرٍ لُجِّيٍّ}: بعيدٍ قعرُهُ طويل مداهُ، {يغشاه موجٌ من فوقِهِ موجٌ من فوقِهِ سحابٌ ظلماتٌ بعضُها فوق بعض}: ظلمةُ البحر اللُّجِّيِّ، ثم فوقه ظلمة الأمواج المتراكمة، ثم فوق ذلك ظلمة السحب المدلهمَّة، ثم فوق ذلك ظلمةُ الليل البهيم، فاشتدَّت الظلمةُ جدًّا؛ بحيث أنَّ الكائن في تلك الحال {إذا أخرجَ يَدَه لم يكدْ يراها}: مع قربِها إليه؛ فكيف بغيرها؟! كذلك الكفار تراكمت على قلوبهم الظلماتُ؛ ظلمةُ الطبيعة التي لا خير فيها، وفوقها ظلمةُ الكفر، وفوقَ ذلك ظلمةُ الجهل، وفوق ذلك ظلمةُ الأعمال الصادرة عمَّا ذُكِرَ، فبقوا في الظُّلمة متحيِّرين، وفي غمرتهم يَعْمَهون، وعن الصراط المستقيم مُدْبِرون، وفي طرق الغيِّ والضلال يتردَّدون، وهذا لأنَّ الله خَذَلَهم فلم يُعْطِهِم من نوره. {وَمَن لم يَجْعَلِ الله له نوراً فما له من نورٍ}: لأنَّ نفسَه ظالمةٌ جاهلةٌ، فليس فيها من الخير والنور إلاَّ ما أعطاها مولاها ومنحها ربُّها.
يُحْتَمَل أنَّ هذين المثالين لأعمال جميع الكفار؛ كلٌّ منهما منطبقٌ عليها، وعدَّدهما لتعدُّد الأوصاف، ويُحتمل أنَّ كلَّ مثال لطائفةٍ وفرقةٍ؛ فالأوَّل للمتبوعين، والثاني للتابعين. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔