ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 41

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الطَّیۡرُ صٰٓفّٰتٍ ؕ کُلٌّ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَ تَسۡبِیۡحَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
En
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے، لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس سے پہلی آیات میں یہ بتایا کہ آسمانوں اور زمین کو حسی اور معنوی نور سے روشن کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، ساتھ ہی مومنوں کے دلوں کے نور ایمان سے منور ہونے اور کفار کے دلوں کے تاریکیوں میں غوطے کھانے کی مثالیں بیان فرمائیں، اب آسمانوں اور زمین میں پھیلے ہوئے اس نور (توحید) کی طرف رہنمائی کرنے والے چند دلائل بیان فرمائے۔
➋ { اَلَمْ تَرَ:} یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے بھی نہیں دیکھا، اس لیے یہاں { اَلَمْ تَرَ } سے مراد یہ نہیں کہ کیا تو نے نہیں دیکھا بلکہ مراد ہے {أَلَمْ تَعْلَمْ} یعنی کیا تجھے معلوم نہیں؟ جیسا کہ فرمایا: { اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ } [الفیل: ۱] اس میں مخاطب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو آپ پیدا ہی اس واقعہ کے بعد ہوئے ہیں، آپ کے اسے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہر شخص اس کا مخاطب ہے تو ہر شخص کا اس واقعہ کو دیکھنا ممکن ہی نہیں، اس لیے وہاں بھی معنی {أَلَمْ تَعْلَمْ} ہے۔ دراصل اس لفظ سے پوچھنا نہیں بلکہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ کیا تمھیں یہ بات معلوم نہیں، اگر معلوم نہیں ہے تو اب جان لو، اور { اَلَمْ تَرَ } کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہونے والا علم خود دیکھنے سے حاصل ہونے والے علم کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ یقینی ہے۔ (شعراوی)
➌ یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہیں، یعنی جن، انسان، فرشتے، جانور، اڑتے ہوئے پرندے، حتیٰ کہ نباتات اور جمادات سب شہادت دیتے ہیں کہ ہمیں پیدا کرنے والا اور ساری کائنات کو کسی خرابی کے بغیر نہایت حُسن و خوبی سے چلانے والا ہر نقص اور ہر شریک سے پاک ہے۔ تو جب ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو انسان پر تو سب سے بڑھ کر اس کی تسبیح کرنا اور اس کی توحید کی شہادت دینا لازم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی یہ تسبیح زبان حال ہی سے نہیں زبان قال سے یعنی بول کر بھی ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴) اور سورۂ رعد (۱۳)۔
➍ { وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ:} زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کی تسبیح کے بعد پرندوں کی تسبیح کا الگ ذکر فرمایا، کیونکہ وہ اڑتے وقت نہ زمین پر ہوتے ہیں نہ آسمان میں، بلکہ ان کے درمیان معلق ہوتے ہیں، یہ پرندے بھی اللہ کے ہر نقص سے پاک ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۹)۔
➎ { كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ:} اس سے معلوم ہوا کہ ان کی یہ تسبیح اتفاقی طور پر بے سوچے سمجھے نہیں، بلکہ سمجھ کر اور علم کی بنا پر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں سکھایا اور ان کی طرف الہام کیا ہے۔
➏ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کی تسبیح اور بندگی کو اور ان کے ہر عمل کو خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41-1یعنی اہل زمین و اہل آسمان، جس طرح اللہ کی اطاعت اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، سب اس کے علم میں ہے، یہ گویا انسانوں اور جنوں کو تنبیہ ہے کہ تمہیں اللہ نے شعور اور ارادے کی آزادی دی ہے تو تمہیں تو دوسری مخلوقات سے زیادہ اللہ کی تسبیح وتحمید اور اس کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دیگر مخلوقات تو تسبیح الٰہی میں مصروف ہیں۔ لیکن شعور اور ارادہ سے بہرہ ور مخلوق اس میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے۔ جس پر یقینا وہ اللہ کی گرفت کی مستحق ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے (اور فضا میں) پر پھیلائے ہوئے [68] پرندے بھی، یہ سب اللہ ہی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ہر مخلوق کو اپنی [69] نماز اور تسبیح کا طریقہ معلوم ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
[68] کافروں کی دو مثالیں بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے کائنات سے کچھ اپنی ایسی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت یا نور ہدایت حاصل کر سکتا ہے۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو فطری طور پر ایسا طریقہ سکھا دیا کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان فضا میں اپنے پر کھولے ہوئے اور قافلہ کی صورت میں قطار در قطار اڑتے پھرتے ہیں۔ اور وہ زمین پر گر نہیں پڑتے۔ پھر بعض دفعہ وہ اڑتے اڑتے اپنے پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ مگر گرتے پھر بھی نہیں۔ آخر ان پرندوں کو یہ طریقہ کس نے سکھایا؟ زمین کی کشش ثقل جو کاغذ کے ایک ہلکے سے پرزے کو اپنی طرح کھینچ لیتی ہے انھیں کیوں نہیں کھینچتی؟
[69] کائنات کی ہر چیز کی نماز اور تسبیح :۔
کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ جس کام پر اسے اللہ نے لگا دیا ہے بلا چون و چرا اس کو سرانجام دے رہی ہے۔ اور فطری قانون ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ ان سے سر مو تجاوز نہیں کرتی۔ ایسی اطاعت کو بھی ان کی نماز اور تسبیح کہا جا سکتا ہے۔ تاہم ان اشیاء کی نماز اور تسبیح اس کے علاوہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ جسے ہم انسان یا جن جو مکلف مخلوق ہیں، جان نہیں سکتے۔ اور تسبیح کرنے والی اشیاء اپنی نماز اور تسبیح اور اس کے طریق کار کو خوب جانتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 44 میں بتا دیا کہ تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44]‏‏‏‏ ’ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں ‘۔
اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ یعنی تمام حیوانات و جمادات﴿ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ اور وہ پرندے (جو آسمان میں) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُ٘لٌّ ہر ایک نے یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِیْحَهٗ جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز اور تسبیح الہام کی ہے خواہ انبیاء ومرسلین کے توسط سے، جیسے جنوں، انسانوں اور فرشتوں کی نماز اور تسبیح۔ یا اپنی جانب سے الہام کے ذریعے سے، جیسے دیگر مخلوق اور یہ احتمال زیادہ راجح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انھیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں، جو جزا و سزا کو متضمن ہیں، اپنے علم کو جمع کر دیا۔
آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِیْحَهٗ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے… اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کیا ہے… یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ تُ٘سَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًؔا (بنی اسرائیل:17؍44) ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

نبَّه تعالى عبادَه على عظمتِهِ وكمال سلطانِهِ وافتقارِ جميع المخلوقاتِ له في ربوبيَّتها وعبادتها، فقال: {ألم تر أنَّ الله يسبِّحُ له مَن في السمواتِ والأرضِ}: من حيوان وجمادٍ، {والطيرُ صافاتٍ}؛ أي: صافات أجنِحَتِها في جوِّ السماء تسبِّحُ ربَّها. {كلٌّ}: من هذه المخلوقات {قد عَلِمَ صلاتَه وتسبيحَه}؛ أي: كلٌّ له صلاةٌ وعبادةٌ بحسب حاله اللائقة به، وقد ألهمه الله تلك الصلاة والتسبيح: إما بواسطة الرسل كالجن والإنس والملائكة، وإما بإلهام منه تعالى كسائر المخلوقات غير ذلك.

وهذا الاحتمال أرجح؛ بدليل قوله: {واللهُ عليمٌ بما يفعلونَ}؛ أي: علم جميعَ أفعالها، فلم يخفَ عليه منه شيء، وسيجازيهم بذلك، فيكون على هذا قد جَمَعَ بين علمها بأعمالهم، وذلك بتعليمه، وبين علمه بأعمالهم المتضمِّن للجزاء. ويُحتمل أنَّ الضمير في قوله: {قد علم صلاتَه وتسبيحَه}: يعودُ إلى الله، وأنَّ الله تعالى قد عَلِمَ عباداتِهِم، وإنْ لم تَعْلَموا أيُّها العبادُ منها إلاَّ ما أطلعكم الله عليه. وهذه الآية كقوله تعالى: {تُسَبِّحُ له السمواتُ السبعُ والأرضُ ومَنْ فيهنَّ وإن من شيءٍ إلاَّ يسبِّح بحمدِهِ ولكن لا تَفْقَهونَ تسبيحَهم إنَّه كان حليماً غفوراً}.