تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَلَمْ تَرَ:} یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے بھی نہیں دیکھا، اس لیے یہاں {” اَلَمْ تَرَ “} سے مراد یہ نہیں کہ ”کیا تو نے نہیں دیکھا “ بلکہ مراد ہے {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} یعنی کیا تجھے معلوم نہیں؟ جیسا کہ فرمایا: { اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ } [الفیل: ۱] اس میں مخاطب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو آپ پیدا ہی اس واقعہ کے بعد ہوئے ہیں، آپ کے اسے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہر شخص اس کا مخاطب ہے تو ہر شخص کا اس واقعہ کو دیکھنا ممکن ہی نہیں، اس لیے وہاں بھی معنی {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} ہے۔ دراصل اس لفظ سے پوچھنا نہیں بلکہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ کیا تمھیں یہ بات معلوم نہیں، اگر معلوم نہیں ہے تو اب جان لو، اور {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہونے والا علم خود دیکھنے سے حاصل ہونے والے علم کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ یقینی ہے۔ (شعراوی)
➌ یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہیں، یعنی جن، انسان، فرشتے، جانور، اڑتے ہوئے پرندے، حتیٰ کہ نباتات اور جمادات سب شہادت دیتے ہیں کہ ہمیں پیدا کرنے والا اور ساری کائنات کو کسی خرابی کے بغیر نہایت حُسن و خوبی سے چلانے والا ہر نقص اور ہر شریک سے پاک ہے۔ تو جب ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو انسان پر تو سب سے بڑھ کر اس کی تسبیح کرنا اور اس کی توحید کی شہادت دینا لازم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی یہ تسبیح زبان حال ہی سے نہیں زبان قال سے یعنی بول کر بھی ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴) اور سورۂ رعد (۱۳)۔
➍ { وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ:} زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کی تسبیح کے بعد پرندوں کی تسبیح کا الگ ذکر فرمایا، کیونکہ وہ اڑتے وقت نہ زمین پر ہوتے ہیں نہ آسمان میں، بلکہ ان کے درمیان معلق ہوتے ہیں، یہ پرندے بھی اللہ کے ہر نقص سے پاک ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۹)۔
➎ { كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ:} اس سے معلوم ہوا کہ ان کی یہ تسبیح اتفاقی طور پر بے سوچے سمجھے نہیں، بلکہ سمجھ کر اور علم کی بنا پر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں سکھایا اور ان کی طرف الہام کیا ہے۔
➏ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کی تسبیح اور بندگی کو اور ان کے ہر عمل کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
نبَّه تعالى عبادَه على عظمتِهِ وكمال سلطانِهِ وافتقارِ جميع المخلوقاتِ له في ربوبيَّتها وعبادتها، فقال: {ألم تر أنَّ الله يسبِّحُ له مَن في السمواتِ والأرضِ}: من حيوان وجمادٍ، {والطيرُ صافاتٍ}؛ أي: صافات أجنِحَتِها في جوِّ السماء تسبِّحُ ربَّها. {كلٌّ}: من هذه المخلوقات {قد عَلِمَ صلاتَه وتسبيحَه}؛ أي: كلٌّ له صلاةٌ وعبادةٌ بحسب حاله اللائقة به، وقد ألهمه الله تلك الصلاة والتسبيح: إما بواسطة الرسل كالجن والإنس والملائكة، وإما بإلهام منه تعالى كسائر المخلوقات غير ذلك.
وهذا الاحتمال أرجح؛ بدليل قوله: {واللهُ عليمٌ بما يفعلونَ}؛ أي: علم جميعَ أفعالها، فلم يخفَ عليه منه شيء، وسيجازيهم بذلك، فيكون على هذا قد جَمَعَ بين علمها بأعمالهم، وذلك بتعليمه، وبين علمه بأعمالهم المتضمِّن للجزاء. ويُحتمل أنَّ الضمير في قوله: {قد علم صلاتَه وتسبيحَه}: يعودُ إلى الله، وأنَّ الله تعالى قد عَلِمَ عباداتِهِم، وإنْ لم تَعْلَموا أيُّها العبادُ منها إلاَّ ما أطلعكم الله عليه. وهذه الآية كقوله تعالى: {تُسَبِّحُ له السمواتُ السبعُ والأرضُ ومَنْ فيهنَّ وإن من شيءٍ إلاَّ يسبِّح بحمدِهِ ولكن لا تَفْقَهونَ تسبيحَهم إنَّه كان حليماً غفوراً}.