تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 54

فَذَرۡہُمۡ فِیۡ غَمۡرَتِہِمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۵۴﴾
سو تو انھیں ایک وقت تک ان کی غفلت میں رہنے دے۔ En
تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو
En
پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَذَرْهُمْ فِیْ غَ٘مْرَتِهِمْ پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں۔ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں، کہ وہ حق پر ہیں، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِیْنٍ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فَذَرْهُم في غمرتهم}؛ أي: في وسط جهلهم بالحقِّ ودعواهم أنَّهم هم المحقون {حتى حينٍ}؛ أي: إلى أن ينزِلَ العذابُ بهم؛ فإنَّهم لا ينفعُ فيهم وعظٌ، ولا يفيدُهم زجرٌ؛ فكيفَ يفيدُ بمن يزعُمُ أنَّه على الحقِّ ويطمع في دعوة غيرِهِ إلى ما هو عليه؟