تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 55

اَیَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمۡ بِہٖ مِنۡ مَّالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم مال اور بیٹوں میں سے جن چیزوں کے ساتھ ان کی مدد کر رہے ہیں۔ En
کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں
En
کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اوﻻد بڑھا رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلْ لَّا یَشْ٘عُرُوْنَ بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً (الانعام:6؍44) حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أيحسبونَ أنَّما نُمِدُّهُم به من مالٍ وبنينَ. نسارِعُ لهم في الخيرات}؛ أي: أيظنُّونَ أنَّ زيادتنا إيَّاهم بالأموال والأولاد دليلٌ على أنَّهم من أهل الخير والسعادة، وأنَّ لهم خيرَ الدُّنيا والآخرة، وهذا مقدَّم لهم؟! ليس الأمر كذلك؛ {بل لا يشعرونَ}: أنَّما نُملي لهم ونُمْهِلُهم ونُمِدُّهم بالنعم ليزدادوا إثماً وليتوفَّر عقابهم في الآخرة، وليغتَبِطوا بما أوتوا، حتى إذا فَرِحوا بما أوتوا؛ أخَذْناهم بغتةً.