(آیت 54){ فَذَرْهُمْفِيْغَمْرَتِهِمْحَتّٰىحِيْنٍ:} یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہِ راست کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اپنے حال ہی پر خوش ہیں، انھیں ان کے حال ہی پر رہنے دیجیے، ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہو جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ لہٰذا ان کا قصہ چھوڑو کہ وہ ایک خاص وقت تک اپنی اس مد ہوشی میں [58] پڑے رہیں۔
[58] یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیجئے ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہو جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَذَرْهُمْفِیْغَ٘مْرَتِهِمْ ﴾”پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں۔“ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں، کہ وہ حق پر ہیں، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰىحِیْنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فَذَرْهُم في غمرتهم}؛ أي: في وسط جهلهم بالحقِّ ودعواهم أنَّهم هم المحقون {حتى حينٍ}؛ أي: إلى أن ينزِلَ العذابُ بهم؛ فإنَّهم لا ينفعُ فيهم وعظٌ، ولا يفيدُهم زجرٌ؛ فكيفَ يفيدُ بمن يزعُمُ أنَّه على الحقِّ ويطمع في دعوة غيرِهِ إلى ما هو عليه؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔