تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 53

فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ زُبُرًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۳﴾
پھر وہ اپنے معاملے میں آپس میں کئی گروہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہر گروہ کے لوگ اسی پربہت خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔ En
تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کرکے جدا جدا کردیا۔ جو چیزیں جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے
En
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیئے، ہر گروه جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَتَقَطَّعُوْۤا پس کاٹ دیا۔ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمْرَهُمْ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَیْنَهُمْ زُبُرًا آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔ ﴿ كُ٘لُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوْنَ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكنْ أبى الظالمون المُفْتَرقُون إلاَّ عصياناً، ولهذا قال: {فتقطَّعوا أمرَهم بينَهم زُبُراً}؛ أي: تقطَّع المنتسبون إلى أتباع الأنبياء {أمْرَهم}؛ أي: دينهم {بينَهم زُبُرا}؛ أي: قطعاً. {كلُّ حزبٍ بما لديهم}؛ أي: بما عندهم من العلم والدين {فرِحون}: يزعمون أنَّهم المحقُّون، وغيرُهم على غير الحقِّ، مع أن المحقَّ منهم مَنْ كان على طريق الرُّسل من أكل الطيبات والعمل الصالح، وما عداهم فإنَّهم مبطِلون.