پھرہم نے اس قطرے کو ایک جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کر دیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔
En
پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّخَلَقْنَاالنُّطْفَةَ ﴾”پھر بنایا ہم نے نطفے کو“ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾”لوتھڑا“ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقْنَاالْعَلَقَةَ﴾”پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو“ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضْغَةً ﴾”گوشت کا ٹکڑا“ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ ﴾”پھر بنایا نرم بوٹی کو“﴿ عِظٰمًا ﴾”ہڈیاں “ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں۔ ﴿ فَكَسَوْنَاالْعِظٰمَلَحْمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔
﴿ ثُمَّاَنْشَاْنٰهُخَلْقًااٰخَرَ﴾”پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں۔“ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَاللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحْسَنُالْخٰؔلِقِیْنَ﴾”وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے“﴿ الَّذِیْۤاَحْسَنَكُ٘لَّشَیْءٍخَلَقَهٗوَبَدَاَخَلْ٘قَالْاِنْسَانِمِنْطِیْنٍۚ۰۰ثُمَّجَعَلَنَسْلَهٗمِنْسُلٰلَةٍمِّنْمَّآءٍمَّهِیْنٍۚ۰۰ثُمَّسَوّٰىهُوَنَ٘فَ٘خَفِیْهِمِنْرُّوْحِهٖوَجَعَلَلَكُمُالسَّمْعَوَالْاَبْصَارَوَالْاَفْـِٕدَةَ١ؕقَلِیْلًامَّاتَشْكُرُوْنَ ﴾ (السجدۃ: 32؍7-9) ”جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔“ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدْخَلَقْنَاالْاِنْسَانَفِیْۤاَحْسَنِتَقْوِیْمٍ ﴾ (التین:95؍4) ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے“ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم خلقنا النطفةَ}: التي قد استقرَّت قبل {علقةً}؛ أي: دماً أحمر بعد مضيِّ أربعين يوماً من النطفة، ثم {خلقنا العلقةَ}: بعد أربعين يوماً {مضغةً}؛ أي: قطعة لحم صغيرةٍ بقدر ما يُمْضَغ من صغرها، {فَخلْقنا المضغة}: اللينةَ {عظاماً}: صلبةً قد تخلَّلت اللحم بحسب حاجة البدن إليها، {فكَسَوْنا العظام لحماً}؛ أي: جعلنا اللحم كسوة للعظام؛ كما جعلنا العظام عماداً للحم، وذلك في الأربعين الثالثة، {ثم أنشأناه خَلْقاً آخر}: نفخ فيه الروح، فانتقل من كونه جماداً إلى أنْ صار حيواناً. {فتبارك الله}؛ أي: تعالى وتعاظم وكثر خيره، {أحسنُ الخالقينَ}: {الذي أحسنَ كلَّ شيءٍ خَلَقَهُ وبدأ خَلْقَ الإنسان من طين. ثم جعل نسله من سلالةٍ من ماءٍ مَهين. ثم سوَّاه ونَفَخَ فيه من روحِهِ وجعل لكم السمع والأبصار والأفئدةَ قليلاً ما تشكرون}؛ فخلقه كلُّه حسنٌ، والإنسان من أحسن مخلوقاته، بل هو أحسنها على الإطلاق؛ كما قال تعالى: {لقد خَلَقْنا الإنسان في أحسن تقويم}، ولهذا كان خواصُّه أفضل المخلوقات وأكملها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔