تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 13

ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿۪۱۳﴾
پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ En
پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا
En
پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ پھر ہم نے اس کو بنایا۔ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطْفَةً نطفہ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِیْ قَ٘رَارٍ مَّكِیْنٍ ایک محفوظ جگہ میں۔ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم جعلناه}؛ أي: جنس الآدميين {نطفةً}: تخرُجُ من بين الصُّلب والترائب، فتستقر {في قَرارٍ مكينٍ}: وهو الرحم، محفوظةً من الفساد والريح وغير ذلك.