تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّجَعَلْنٰهُ﴾”پھر ہم نے اس کو بنایا۔“ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطْفَةً ﴾”نطفہ“ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِیْقَ٘رَارٍمَّكِیْنٍ ﴾”ایک محفوظ جگہ میں۔“ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم جعلناه}؛ أي: جنس الآدميين {نطفةً}: تخرُجُ من بين الصُّلب والترائب، فتستقر {في قَرارٍ مكينٍ}: وهو الرحم، محفوظةً من الفساد والريح وغير ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔